رسائی کے لنکس

پاکستانی معیشت کو درپیش مسائل


پاکستانی معیشت کو درپیش مسائل

پاکستانی معیشت کو درپیش مسائل

ورلڈ بنک کے اعدادو شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ اور حالیہ سال کے دوران آنے والے سیلابوں کی وجہ سے معاشی ترقی کی 4.5 فی صد کی متوقع شرح اب 2.5 فیصد تک گر سکتی ہے۔

مالی سال 2010/2011 میں ملکی برآمدات اور سمندر پار پاکستانیوں کی طرف سے بھیجے جانے والی رقوم میں اضافے کی وجہ سے پاکستان کے زرِ مبادلہ کے ذخائر بلند سطح پر ہیں مگر مبصرین کہتے ہیں کہ حکومتی خسارہ ایک بڑا مسئلہ ہے جس کا اثر توانائی کے ضرورتیں پوری کرنے کےسرکاری اہداف اور صنعتی شعبے پر پڑ رہا ہے ۔

اٹلانٹک کونسل کے اسکالر شجاع نواز کا کہناہے کہ اس وقت پاکستان کی انڈسٹری 50 فیصد استعداد پر کام کر رہی ہے۔ پاکستان کی ٹیکسٹائل انڈسٹری میں عام طور پر 20 لاکھ کارکن کام کرتے ہیں، جب کہ آج کل ان کی تعداد 10 لاکھ تک سمٹ چکی ہے۔

عابد حسن ایف بی آر ٹیکس اصلاحات بورڈ اور پاکستان اکنامک ایڈوائزری کمیٹی کے سابق رکن ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ غیر ملکی امداد اور قرضوں کا بڑا حصہ اداروں کی کرپشن کی نذر ہو جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ معیشت اور عام آدمی کے حالات زندگی میں بہتری امداد سے نہیں سیاسی فیصلوں سے آئے گی۔

ان کے خیال میں یہ ناکامی حکومت میں شامل افراد کی ہے، چاہے یہ حکومت ہو یا پچھلی حکومت، اس ن ے غریب عوام کی بھلائی ، صحت ، تعلیم ، پانی اور روزگار کے لیے کافی کچھ نہیں کیا۔

کئی معاشی ماہرین کا کہناہے کہ پاکستانی معیشت گزشتہ تین سال سے بہتری کی جانب بڑھنے کی کوشش کر رہی ہے لیکن پاکستان کی منڈیوں اور مالی اداروں پر عالمی معاشی بحران کے اثرات کی وجہ سے بہتری کی رفتار سست ہے ، جبکہ پاکستان میں سیکیورٹی مسائل کوبھی معاشی بہتری کی راہ میں رکاوٹ قرار دیا جاتاہے ۔ امریکہ نے گزشتہ ایک سال میں پاکستان کو ایک ارب 20 کروڑڈالر کی امداد دی ہے جس میں سے 50 کروڑ ڈالر معیشت کی بہتری کے لیے تھے۔ شجاع نواز کہتے ہیں کہ یہ امداد اٹھارہ کروڑ سے زائد آبادی کے ملک کے لیے اتنی زیادہ نہیں۔

ان کا کہناہے کہ اگر آپ امداد کی مقدار دیکھیں تو وہ پاکستان کے لیے بہت کم ہے۔ کیری لوگر بل کے ذریعے ایک سال میں ایک ارب 20 کروڑ ڈالر دیے گئے۔ اس کے برعکس بیرونی ملکوں میں مقیم پاکستانی ہرسال12 سے 13 ارب ڈالر بھیج رہے ہیں۔

ماہرین خدشہ ظاہر کر رہے ہیں کہ آنے والے دو یا تین برسوں میں پاکستان کو قدرتی گیس کے بحران کا بھی سامنا ہو سکتا ہے جس کے لیے ابھی سے منصوبہ بندی کرنی ہوگی۔

XS
SM
MD
LG