رسائی کے لنکس

’مجھے علم تھا کہ میں اکیلی نہیں ہوں‘


فٹ فار مام۔ ایک ایکسرسائز گروپ، جو متوقع ماوں، نئی ماوں اور ان کے بچوں کو صحت مند ورزش اور تفریح کا موقع فراہم کرتا ہے.

کیا آپ بھی ایک ماں ہیں؟ کتنا مشکل ہوتا ہے ایک ماں ہونا ؟ ۔۔۔ گھر کی ذمہ داری، ملازمت اور بچوں کی پرورش؟۔۔ کیا یہ سب کام ایک ساتھ خوش اسلوبی سے انجام دینے والی عورت کوئی سپر وومین ہوتی ہے؟ ۔۔

ہم نے یہ بات جاننے کے لیے ریاست ورجینیا کی کچھ ایسی ماؤں سے ملاقات کی جو فٹ فار مام نام کے ایک ایسے گروپ کا حصہ ہیں، جو امریکہ کی مختلف ریاستوں میں 13 سال سے کام کر رہا ہے۔

گروپ کی چیف آپریٹنگ آفیسر لیسا جیکس مین کا خیال تھا کہ امریکہ میں ماوں کے لیے ایسی کوئی سرگرمیاں نہیں ہیں، جن میں وہ اپنے بچوں کے ساتھ حصہ لے سکیں۔

تو انہوں نے فٹ فار مام کے نام سے یہ گروپ شروع کیا، جو نئی ماو ں اور کام کرنے والی عورتوں کو ، جن کے بچے چھوٹے ہوں ، ورزش کرنے، ملاقات کرنے اور گھر سے باہر نکلنے کا ایک صحت مند موقع فراہم کرتا ہے۔

ریاست ورجینیا کے شہر فالز چرچ اور ویانا میں گروپ کی فرینچائز چلانے والی جیکلین رابرٹ سن کے اپنے تین چھوٹے بچے ہیں۔ یہ اپنے بچوں کو کسی ڈے کئیر میں چھوڑ کر ملازمت پر نہیں جانا چاہتی تھیں۔ جسمانی طور پر فٹ رہنا چاہتی تھیں اور دوسری ماوں سے ملاقات بھی کرنا چاہتی تھیں ۔

نکی کریگ ڈٰیڑھ سال سے اس گروپ کی سرگرمیوں میں حصہ لے رہی ہیں ۔ ان کا ایک بچہ ڈیڑھ سال کا ہے اور دوسرا جلد خاندان کا حصہ بننے والا ہے ۔ یہ کہتی ہیں کہ فٹ فار مام کلاسز متوقع ماوں اور نئی ماوں کے لیے ایک زبردست ایکسرسائز فراہم کرتی ہیں۔

ان میں میراتھون اور ایتھلیٹکس میں حصہ لینے والی مائیں بھی شریک ہوتی ہیں ۔ کلاسز مختلف سطح کی ہوتی ہیں ۔۔مائیں فٹنیس کی جس بھی سطح پر ہوں ، ان کلاسز سے فائدہ اٹھا سکتی ہیں ۔ نکی کے لیے سب سے اہم یہ ہے کہ یہ دوسری ماوں سےسوال پوچھ سکتی ہیں۔

نئے دوست بنا سکتی ہیں ۔ ان کی بیٹی کو دوسرے بچوں سے کھیلنے کی دعوت ملتی ہے ۔ یعنی انہیں ا س ایک کلاس سے تین قسم کے فائدے ملتے ہیں ۔ مائیں ملاقات کرتی ہیں ۔ ورزش کرتی ہیں اور بچوں کو ایک دوسرے سے کھیلنے کا موقعہ ملتا ہے ۔

علیشا, ایک نئی ماں ہیں ۔ ان کی بیٹی ایزابیلا دو مہینے کی ہے ۔ یہ کہتی ہیں کہ ابھی انہیں بالکل علم نہیں کہ بچے کی پرورش میں کن باتوں کا خیال رکھنا چاہئے ۔ یہ کسی ایسے پروگرام کا حصہ بننا چاہتی تھی ، جو انہیں نئی ماوں سے ملنے کا موقعہ فراہم کرے، جن کے مسائل ان جیسے ہیں اور انہیں کچھ اچھی ایکسر سائز کرنے کا موقعہ مہیا کر سکے ۔ان کا کہنا ہے کہ جب یہ اپنی میٹرنٹی چھٹیاں گزار کر ملازمت پر واپس جائیں گی تو فٹ فار مام کلاسز کے لچکدار اوقات کار سے انہیں اپنی ایکسرسائز کی روٹین برقرار رکھنے کا موقعہ ملے گا ۔

نتاشا مور, فٹ فار مام کے لیے انسٹرکٹر کے طور پر کام کرتی ہیں ۔۔ انسٹرکٹر بننے سے پہلے یہ پندرہ سال تک ایک ٹیچر تھی ۔ اپنے چوتھے بچے کی پیدائش کے بعد انہوں نے گھر میں رہ کر بچوں کی دیکھ بھال کا فیصلہ کیا ۔ لیکن انہیں پھر بھی باہر نکلنے اور دوستوں سے ملنے کی ضرورت تھی۔

یہ ایک سال تک فٹ فار مام کی کلائینٹ رہیں ۔ پھر انہوں نے انسٹرکٹر بننے کی تربیت لی اور دوسری ماوں کو وہ سکھانے کا فیصلہ کیا ، جس سے یہ خود لطف اندوز ہوتی ہوں ۔ یعنی ایکسرسائز اور سماجی رابطے ۔

یہ کہتی ہیں کہ فٹ فار مام کے تحت بچے کی پیدائش سے پہلے اور بعد میں ماوں کی فٹ نیس پر خصوصی توجہ دی جاتی ہے ۔ ان کی بیٹی نے یہاں گنتی اور کلرنگ کرنا بھی سیکھی ہے ۔ ان کے خیال میں ۔۔۔۔ماں ہونا ایک مشکل کام ہے ۔ بقول ان کے ’’ ہم ہر چیز میں مکمل نظر آنا چاہتے ہیں ۔ ہم ہر وقت اپنے بچوں اور خاندان کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں ۔ لیکن یہ مشکل کام ہے۔۔مجھے لگتا ہے کہ ماوں کو ایک دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔۔ ایک دوسرے کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے ۔ ۔۔۔۔اپنے آپ کو اچھا محسوس کروانے کے لئے کسی دوسرے کی ضرورت ہوتی ہے ۔۔۔میں اپنے ہر بچے کی پیدائش پر پوسٹ پارٹم ڈپریشن سے گزری ہوں ۔ اور فٹ فار مام وہ پروگرام تھا ، جس نے مجھےنہ صرف ایکسرسائز کے ذریعے بلکہ ان تعلقات کے ذریعے بھی جو میں نے دوسری ماوں سے بنائے ، ڈپریشن سے نکلنے میں مدد دی ۔ کہ مجھے علم تھا ، کہ میں اکیلی نہیں ہوں ‘‘۔

XS
SM
MD
LG