رسائی کے لنکس

فردوسی بیگم کی ’وی او اے‘ پروگرام میں شرکت، سوالوں کے جواب

  • شہناز عزیز

فائل

فائل

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک فلم کے لیے وہ کراچی آئیں اور یہاں انہوں نے نئے نوجوان گلوکار، نذیر بیگ کو دیکھا جس کی آواز سے وہ بیحد متاثر ہوئیں اور فردوسی بیگم ہی کی سفارش پر کیپٹن احتشام نے نذیر بیگ کو ڈھاکہ بلایا۔ اور وہ گلوکار کی بجائے فلم کے لیے ہیرو منتخب کر لیے گئے

اردو اور بنگالی کی انتہائی مقبول گلوکارہ، فردوسی بیگم نے ہفتے کے روز ڈھاکہ سے ’وائس آف امریکہ‘ کے پروگرام ’کچھ تو کہئیے‘ میں مہمان کی حیثیت سے شرکت کی۔ ٹیلی فون پر سامعین نے اُن کی معیاری گلوکاری کی تعریف کی اور اُن سے اپنی محبت کا اظہار کیا، جن سے گلوکارہ نے تفصیلی گفتگو کی۔

فردوسی بیگم نے پاکستان کے ساتھ اپنی طویل شناسائی، رفاقت اور محبت کا ذکر کیا؛ اور اردو زبان کے اپنے شائقین کے خوش دلی سے جواب دیے۔

فردوسی بیگم کی آواز میں بنگال کی مخصوص مٹھاس اور وہاں کی لوک دھنوں کا منفرد ترنم ہے۔ اُن کے والد، عباس الدین ایک معروف موسیقار اور گلوکار تھے۔

ان کو بچپن ہی میں استاد منیر حسین خان، محمد حسین خان اور مستان گاما کی شاگردی میں دیدیا گیا۔ پھر استاد قادر ضمیری نے فردوسی کو اردو غزل اور ٹھمری کی تربیت دی۔

فردوسی کا بچپن تو کلکتہ ہی میں گذرا۔ لیکن، تقسیمِ برصغیر کے بعد، ان کے والدین ڈھاکہ منتقل ہوگئے۔ فردوسی نےکم عمری ہی میں ریڈیو ڈھاکہ سے وابستگی اختیار کرلی تھی اور بچوں کے پروگرام پیش کیا کرتی رہیں۔ جولائی 1955ء میں ’ریڈیو پاکستان ڈھاکہ‘ سے اُن کا پہلا نغمہ نشر ہوا۔

نوجوان موسیقار روبن گھوش نے فردوسی کی آواز میں پہلا گیت فلم ’چندا‘ کے لئے ریکارڈ کیا۔ اس کے بعد، فردوسی بیگم نے متعدد فلموں میں گیت گائے جن میں ’تلاش‘، ’سات رنگ‘، ’کاجل‘، ’نواب سراج الدولہ‘ اور متعدد فلمیں شامل ہیں۔ اداکار و ہدایتکار رحمان کی فلم ’ملن‘ میں فردوسی بیگم کا یہ نغمہ ’کوئی دل میں آکے مسکرا گیا‘ اب تک لوگ گنگناتے ہیں۔ فلم ’نواب سراج الدولہ‘ میں ’ہے یہ عالم تجھے بھلانے میں، اشک آتے ہیں مسکرانے میں‘ اور ’چکوری‘ میں ’کہاں ہو تجھ کو ڈھونڈ رہی ہیں‘ اور ’وہ میرے سامنے تصویر بنے بیٹھے ہیں‘ ، فلم ’تلاش‘ میں’موسم رنگیلا نشیلا ہوا‘ جیسے گانے ان کے کریڈٹ پر ہیں۔ فردوسی بیگم کو 1965ء میں صدارتی ایوارڈ برائے تمغہٴ حسنِ کارکردگی بھی دیا گیا۔

ایک دلچسپ بات یہ ہے کہ ایک فلم کے لیے وہ کراچی آئیں اور یہاں انہوں نے نئے نوجوان گلوکار، نذیر بیگ کو دیکھا جس کی آواز سے وہ بیحد متاثر ہوئیں اور فردوسی بیگم ہی کی سفارش پر کیپٹن احتشام نے نذیر بیگ کو ڈھاکہ بلایا۔ اور وہ گلوکار کی بجائے فلم کے لیے ہیرو منتخب کر لیے گئے۔

بنگلہ دیش کے قیام کے بعد، وہ پاکستان نہ آئیں۔ اور شادی کےبعد فردوسی رحمان ہوگئیں۔ ان کے دو بیٹے اور چار پوتے ہیں۔ وہ بنگلہ دیش ٹی وی سے بچوں کے ایک مقبول پروگرام میں میوزک کی تربیت دے رہی ہیں۔ آج بھی وہ پاکستان کو بہت محبت سے یاد کرتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG