رسائی کے لنکس

شازیہ کہتی ہیں کہ خواتین جس شعبے میں بھی کام کریں وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور اگر اچھا کام کریں تو مردوں سے بھی آگے جاسکتی ہیں

کراچی: حال ہی میں شازیہ پروین کا نام ایک باہمت نوجوان خاتون کے طور پر سامنے آیا، جو ملک کی پہلی خاتون فائر فائٹر ہیں۔ وہ اِن دنوں، ریسکیو 1122 نامی ادارے میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔

’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے، شازیہ پروین نے بتایا کہ کالج سے الیکٹرانک میں ڈپلومہ لے رکھا ہے۔

بقول اُن کے، ریسکیو ادارے میں نوکری کیلئے سخت جان تربیت کے بغیر نوکری کا حصول مشکل تھا۔

شازیہ مزید بتاتی ہیں کہ'ریسکیو ٹریننگ کے دوران، 600 مردوں میں وہ واحد خاتون تھیں‘، مگر، انھوں نے اپنے آپ کو کبھی مردوں سے کم تر نہیں سمجھا۔

شازیہ نے بتایا کہ ’ٹریننگ اتنی سخت تھی کہ کئی لڑکوں نے اسے ادھورا چھوڑ دیا تھا‘۔

شازیہ کے بقول، ’دیگر مرد انھیں دیکھ کر کہتے تھے، جب ایک لڑکی اتنا سخت کام کر رہی ہے تو ہم کیوں نہ کریں۔ مجھے دیکھ کر اُن کا حوصلہ بڑھتا تھا جو میرے لئے ایک اعزاز تھا‘۔

وہ کہتی ہیں کہ دنیا کے ہر والدین کی طرح ان کے والدین کی بھی یہی خواہش تھی کہ ان کی بیٹی کسی اچھے ادارے میں کام کرے اور کوئی مقام پیدا کرے۔ ’میرے اس کام سے والدین سمیت سب خوش ہیں اور فخر محسوس کرتے ہیں‘۔

مرد فائر فائٹروں کے ساتھ کام کرنا نمایاں خدمات

فائر فائٹنگ جیسے شعبے میں ایک خاتون کے طور پر نمایاں خدمات پیش کرنا اور کن مسائل کا سامنا رہا اس سوال کےجواب میں شازیہ وی او اے سے گفتگو میں کہتی ہیں کہ ایک عورت مضبوط ، باہمت اور باحوصلہ ہو تو کوئی بھی مشکل، مشکل نہیں ہے، عورت کو باہمت ہونا چاہئے مشکلات تو زندگی کے ہر شعبے میں ہوتی ہیں،ایک عورت کمزور ہے یہ صرف معاشرے کی طرف سے پھیلائے ہوئے فرسودہ خیالات ہین،خواتین معاشرے کے ان فرسودہ خیالات کو ذہن میں لانے کے بجائےاپنی صلاحیتوں کو منوائے اور ہمت حوصلہ پیدا کرےتو ایک عورت سب کچھ کرسکتی ہیں ایک عورت آگ بجھانے کا کام کرکے فائر فائٹر بھی بن سکتی ہے۔ عورت اگر باہمت ہو تو کوئی مشکل مشکل نہیں"۔

ریسکیو کاموں میں ایک خاتون کی ضرورت؟

اس سوال کے جواب میں شازیہ نے بتایا کہ "بہت سے رہاءشی عمارتون مکانات پر آگ لگ جاتی ہےایسے میں وہاں موجود خواتین اور بچوں کو بچانے مں مردوں کو مشکلات آتی ہیں کیوں کہ ایسے سانحات میں سب کو پکڑکر باہر نکالنا ہوتا ہے مگر جب ایک عورت ہی عورت کی مدد کرے تو ان لوگوں کے مسائل آدھے رہ جاتے ہیں خواتین ایکدوسرے کےمسائل کو زیادہ بہتر سمجھ سکتی ہیں"۔

حکومت کی طرف سے کوئی اعزاز نہیں۔۔۔

شازیہ پروین نے بتایا کہ ’ریسکیو ادارے کی طرف سے اچھا کام کرنے پر خوب داد دی جاتی ہے؛ کام اچھا کرنے پر سراہا جاتا ہے۔ مگر حکومت پاکستان کی جانب سے تاحال کسی اعزاز یا خطاب سے نہیں نوازا گیا۔ ان کے لئے ادارے کی جانب سے اعزاز دینا تعارفی الفاظ سے نوازنا اہمیت کا حامل ہے‘۔

پاکستان بھر کی خواتین کیلئے شازیہ کا پیغام

شازیہ کا تعلق صوبہ پنجاب کے ضلع وہاڑی سے ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ ’پاکستانی خواتین میں اگر حوصلہ اور ہمت پیدا ہو تو خواتین سب کچھ کرسکتی ہیں۔ پاکستانی عورت اگر اپنے اندر کا ڈر اور خوف نکال باہر کرے تو زندگی کے ہر شعبے میں اپنا لوہا منوا سکتی ہے‘۔

شازیہ کہتی ہیں کہ خواتین جس شعبے میں بھی کام کریں وہ مردوں کے شانہ بشانہ کام کریں اور اگر اچھا کام کریں تو مردوں سے بھی آگے جاسکتی ہیں۔

ڈاکٹر، سیاستدان، ٹیچر، پروفیسر اور وکیل اور کے بعد اب کہا جاسکتا ہے کہ پاکستان کی عورت اب ایک فائر فائٹر بھی ہے۔

XS
SM
MD
LG