رسائی کے لنکس

پاکستان میں اپنی نوعیت کی منفرد پہلی 'بولتی کتاب'


’سوا سات منٹ کی اس کہانی مین سب سے زیادہ معلومات پر زور دیا گیا ہے کہ معلومات بھی دی جائیں اور کہانی کا تانہ بانہ بھی نہ ٹوٹے، جو مشکل تھا۔ مگر، میں نے اسکو کم دورانئے میں ڈھالا‘: مصنفہ

یوں تو پاکستان میں مختلف عنوانات پر کتابیں لکھی جا رہی ہیں، مگر حال ہی میں اپنی نوعیت کی ایک منفرد کتاب سامنے آئی ہے۔ اس کتاب میں صرف تحریر ہی نہیں، بلکہ آڈیو بھی موجود ہے جو خصوصاً پولیو جیسی خطرناک بیماری کیلئے تحریر کی گئی ہے۔

کتاب میں ایک جانب آڈیو پلیئر سسٹم نصب کیا گیا ہے جو اسے منفرد بناتا ہے۔کاغذ اور گتے سے بنی اس کتاب میں پلاسٹک کے آڈیو سسٹم میں ایک جانب صفحات کے حساب سے نمبر والے بٹن بنائے گئے ہیں، جس صفحے کو سننا ہو بس اسکا بٹن دبائیں اور کہانی شروع۔

اس کتاب کی کہانی میں 'صحت کی کہانی' کے عنوان سے بچوں کو پولیو جیسی لاعلاج بیماری سمیت دیگر بیماریوں کے بارے میں تفصیل اور ان سے بچاوٴ کے طریقے کہانی کی صورت میں پیش کیاگیا ہے۔

یہ کتاب پاکستان میں بچوں کی کتابوں کی مصنفہ، عامرہ اسلم نے تحریر کی ہے۔

عامرہ اسلم نے ایک خصوصی گفتگو میں بتایا کہ ’پولیو پر لکھی گئی یہ کتاب پاکستان کی پہلی اسپیکنگ کتاب ہے جسکو لکھنے کا کہا گیا تو یہ بات ہی میرے لئے بہت اعزاز کی بات تھی۔

کراچی: صحت کی کہانی کی مصنفہ عامرہ اسلم کتاب دکھاتے ہوئے

کراچی: صحت کی کہانی کی مصنفہ عامرہ اسلم کتاب دکھاتے ہوئے

وہ مزید بتاتے ہوئے کہتی ہیں کہ یہ بچوں کیلئے لکھی گئی عام کتابوں سے ہٹ کر تھی، جس کیلئے تحقیق و معلومات کی ضرورت تھی۔ جس کے لئے میں نے کئی کتابیں پڑھیں اور معلومات حاصل کیں۔ پھر کافی تحقیق کے بعد میں نے اپنے ذہن میں ایک خیال پیدا کیا اور پھر اس کو میں نے بچوں کی کہانی کی صورت میں پیش کر دیا۔

عامرہ اسلم مزید کہتی ہیں کہ ’سوا سات منٹ کی اس کہانی میں سب سے زیادہ معلومات پر زور دیا گیا ہے کہ معلومات بھی دی جائیں اور کہانی کا تانہ بانہ بھی نہ ٹوٹے جو مشکل تھا مگر میں نے اسکو کم دورانئے میں ڈھالا۔

انھوں نے مزید بتایا کہ ’پاکستان سمیت کراچی کے بیشتر اسکول ایسے ہیں جہاں جب پولیو ٹیمیں قطرے پلانے جاتی ہیں تو وہ منع کردیتے ہیں، کیونکہ والدین کی طرف سے انھیں اس بات کی اجازت نہیں ہوتی۔ اگر اس کتاب کو نجی اسکول بھی اسکولوں اور کلاس روم میں پڑھائیں تو کافی اچھا نتیجہ نکل سکتا ہے۔

انھوں نے بتایا کہ ’پاکستان بھر میں 5 ہزار پولیو سینٹرز میں اس کتاب کو رکھا گیا ہے جہاں والدین کو اس کتاب سے آگاہی پھیلائی جارہی ہے، جس سے اچھا تاثر مل رہا ہے‘


مگر اس کتاب کو پڑھنے کا ایک منفرد طریقہ ہے کہ اگر اسکول میں اسکو پڑھایا جا رہا ہے تو استاد کلاس روم کے بیچ میں بیٹھ کر بچوں کو چاروں طرف بٹھائے اور کتاب کی آڈیو چلائے پھر اسکی تحریر کو پڑھ کر بھی سنائے، تاکہ بچوں میں اس کا پیغام آسانی سے پہنچ سکے۔

ایک مصنفہ ہونے کی حیثیت سے انھوں نے بتایا کہ ’کتاب ایسی طاقت ہے جسکا ہمیں اندازہ نہیں ہے۔ ہمارے ملک میں اسکی طاقت اسلئے کم ہوگئی ہے کہ ہم اس سے دور ہوگئے ہیں‘۔

بقول ان کے، میرا اپنا ذاتی تجربہ ہے کہ جدید ٹیکنالوجی سے ہم زیادہ سے زیادہ معلومات تو حاصل کر رہے ہیں۔ مگر وہ زیادہ عرصے یاد نہیں رکھ پاتے، جبکہ کتاب وہ واحد ذریعہ معلومات ہے جسکی تحریر سے معلومات لمبے عرصے تک ذہن پر نقش رہتی ہیں۔ کتاب کی اہمیت کو فراموش نہیں کیا جا سکتا۔

بولتی کتاب ایک ساتھ تین زبانوں میں
پولیو کی بیماری کے حوالے سے لکھی گئی صحت کہانی کی تحریری اور آڈیو پر مبنی اس کتاب میں ایک ساتھ تین زبانوں اردو انگریزی اور پشتو میں پیش کیا گیا ہے۔جسمیں رنگارنگ تصاویر نے اس کتاب میں جان ڈال دی ہے۔

صحت کی کہانی-پولیو بیماری سے بچاو
یہ کتاب ایک ایسے بچے رحیم اللہ کی کہانی ہے جس کے گاوٴں کے دو بچے پولیو کی بیماری کا شکار ہوکر معذور ہوگئے تھے۔ رحیم اللہ کے ذہن میں اس بیماری کے بارے میں تفصیلات اور بچاوٴ کے طریقوں کے سیکھنے کا سوچا تاکہ کوئی دوسرا بچہ بھی ایسی حالت کو نہ پہنچے جس سے اسکے اپنے بہن بھائی بھی متاثر ہوسکتے ہیں۔

یہی سوچ رحیم اللہ کو پولیو جیسی بیماری کے بچاوٴ کے طریقوں کی جانب لیجاتی ہے۔ رحیم اپنے اساتذہ کی مدد سے صحت و صفائی کے طریقے سیکھ کرجب والدین کو بتاتا ہے، تو والدین خوش ہوتے ہیں۔ یوں پورے گاوٴں میں رحیم کی سمجھداری کے باعث کئی بچے پولیو سمیت متعدد بیماریوں سے بچاوٴ کے طور طریقے اور جراثیم سے پاک رہنے کے طریقے سیکھتے ہیں۔ صحت کی کہانی کے عنوان سے اس بولنے والی کتاب میں پولیو سے بچاوٴ کے قطروں کی اہمیت بتائی گئی ہے۔

کتاب میں پولیو کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ یہ بیماری عام طور پر نوزائیدہ بچوں پر حملہ کرکے انھیں معذور بنانے سمیت موت کے منہ میں بھی لےجا سکتی ہے۔ پولیو کی بیماری کا کوئی علاج نہیں صرف بچاو ممکن ہے۔

عالمی دارہٴ صحت کی جانب سے پاکستان کے پشتون زبان بولنےوالے شہر پشاور کو پولیو کو گڑھ قرار دیا گیا ہے۔ دنیا بھر کے چند ممالک کی طرح پاکستان بھی ان ممالک میں شمار ہوتا ہے جہاں کئی برس سے پولیو سے پاک پاکستان کا خواب تاحال ادھورا ہے۔ ایسے وقت میں اگر اس کتاب کو بڑے پیمانے پر پھیلایا جائے اور ہر گاوٴں اور ہر علاقے میں اسکا درست استعمال کیا جائے۔ تو یہ کتاب ملک میں پولیو کے خاتمے کیلئے سازگار ثابت ہوسکتی ہے۔

پولیو کی بیماری پر لکھی گئی۔ اس کتاب کو عالمی ادارہٴ صحت کے ادارے یونیسیف اور روٹری انٹرنیشنل کے تعاون سے شائع کیا گیا ہے، جسے پاکستان بھر کے مختلف اسکولوں کی اساتذہ اور غیر سرکاری تنظیموں میں مفت پہنچاننے کا انتظام بھی موجود ہے۔
XS
SM
MD
LG