رسائی کے لنکس

سائنسی جرنل 'پروسیڈنگس آف دا نیشنل اکیڈمی' میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے واضح کیا ہے کہ بڑے بچے میں تیزی سے سیکھنےکا ہنر موجود ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایک استاد کا درجہ رکھتا ہے جو انھیں بتاتا ہےکہ دنیا کا کام کس طرح سے ہوتا ہے

عام طور پر خیال کیا جاتا ہے کہ پیدائش کا نمبر ہماری شخصیت، ذہانت، ترقی اور مستقبل کی کامیابیوں کو متاثر کرتا ہے۔ لیکن، اس حوالے سے شائع ہونے والے سائنسی ثبوت اور نتائج زیادہ تر متنازعہ رہے ہیں۔ تاہم، ایک نئی تحقیق سےپتا چلتا ہے کہ گھر کے بڑے بچے کا آئی کیو اپنے بہن بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ ہوتا ہے۔

سائنس دانوں کی حالیہ جائزہ رپورٹ کے مطابق گھر کے بڑے بچے کے عقل مند ہونے کے امکانات دوسرے بہن بھائیوں کے مقابلے میں زیادہ ہیں جبکہ بعد میں پیدا ہونے والا ہر بہن بھائی عقل کےمیدان میں بھی ایک دوسرے سے پیچھے ہوتا ہے یعنی گھر کے سب سے چھوٹے بچے کا آئی کیو سب سے کم ہوسکتا ہے۔

جرمن سائنس دانوں نے اپنے تجزیہ میں کہا کہ ایسا حیاتیاتی وجوہات کی وجہ سے نہیں تھا، بلکہ اس کی ممکنہ وجہ یہ ہوسکتی ہے کہ چھوٹے بہن بھائیوں کی پرورش مختلف انداز سے ہوتی ہے۔۔۔ انھیں گھر میں زیادہ آزادی ملتی ہےجبکہ بڑے بچے پرکامیابی کے لیے دباؤ ہوتا ہے۔

سائنسی جرنل 'پروسیڈنگس آف دا نیشنل اکیڈمی' میں شائع ہونے والے مطالعے میں محققین نے واضح کیا ہے کہ بڑے بچے میں تیزی سے سیکھنےکا ہنر موجود ہوتا ہے، کیونکہ وہ اپنے چھوٹے بہن بھائیوں کے لیے ایک استاد کا درجہ رکھتا ہے جو انھیں بتاتا ہےکہ دنیا کا کام کس طرح سے ہوتا ہے۔

لیپزگ یونیورسٹی اور مینز یونیورسٹی کے سائنس دانوں کا مطالعہ برطانیہ کے تین قومی مطالعوں کے نتائج سے اخذ کیا گیا ہے جس میں 20 ہزار برطانوی افراد شامل تھے اور ان میں چار بچوں سے زیادہ بڑا گھرانہ شامل نہیں تھا۔

نتائج میں کہا گیا کہ اکثر چھوٹے بہن بھائیوں کی طرف سے خود کو بڑے بھائی یا بہن سے کم عقل مند سمجھا جاتا ہے۔ اگرچہ یہ فرق اتنا بڑا نہیں تھا اور ہر بہن اور بھائی کے عقل کے ٹیسٹ میں تقریبا 1.5آئی کیو پوائنٹس ایک دوسرے سے کم تھے۔ تاہم، اس سے یہ وضاحت کرنے میں مدد ملتی ہے کہ کیوں گھر کا بڑا بچہ اکثر زندگی میں زیادہ بہتر کرتا ہے۔

جرمن محققین اس بات پر رضامند نہیں ہیں کہ بڑے بچے کے پاس زیادہ دماغ ہوتا ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ ممکن ہےکہ یہ والدین کی طرف سے ان کے لیے انتہائی توجہ اور پیار کا فائدہ ہوسکتا ہے۔

لیپزگ یونیورسٹی سے منسلک تحقیق کی شریک مصننف محقق جولیا رورا نےکہا اگرچہ ان کے مطالعہ میں یہ تجزیہ شامل نہیں کہ بڑے بچے کیوں ذہین تھے لیکن یہ امکان ان کی پرورش میں مضمر نظر آتا ہے۔

محقق جولیا کے بقول جب پہلے بچے کی پیدائش ہوتی ہے تو اسے والدین کی طرف سے بلاشرکت غیرے پوری توجہ اور محبت ملتی ہے کم از کم چند ماہ یا سالوں تک جب تک دوسرا بہن یا بھائی دنیا میں نہیں آتا ہے جب کہ دوسرے بچے کو پہلے روز سے اشتراک کرنا پڑتا ہے۔

اس مطالعے میں بچوں کے آئی کیو اور ان کی شخصیت کے اعدادوشمار کے نتائج شامل تھے اور محققین کو تجزیہ سے پتا چلا کہ ہر اضافی بہن یا بھائی کے ساتھ ایک شخص کی اپنی عقل کے بارے میں سوچ گر گئی تھی۔

تاہم، عام خیال کے برعکس بڑے بھائی اور چھوٹے بہن بھائیوں کی شخصیت میں کوئی خاص اختلاف موجود نہیں تھا جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ بڑا بچہ پرفیکشنسٹ اور چھوٹا بچہ پر مزاح طبیعت کا مالک ہوتا ہے۔

پروفیسرجولیا نے کہا کہ ایک ممکنہ عنصر یہ بھی ہوسکتا ہے کہ دوسروں کا تعلیم دینا ایک تخلیقی کام ہے جس میں اپنی معلومات کو یاد کرنے کی ضرورت پڑتی ہے اور پھر چھوٹے بہن بھائیوں کو اچھے طریقے سے سمجھانا ہوتا ہےجس سے بڑے بچے کی ذہانت کو بھی فروغ ملتا ہے۔

اس کے علاوہ ایک نظریہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ ہر بچے کی آمد کے ساتھ والدین کے وسائل میں کمی واقع ہوتی ہے۔

پروفیسر جولیا کے مطابق دو بچوں کے 10خاندان میں سے 6 گھرانوں میں بڑے بچے کا آئی کیو زیادہ ہونے کا امکان ہے۔لہذا، ہم کہ سکتے ہیں کہ چار گھرانوں میں ممکنہ طور پر دوسرا بچہ زیادہ ذہین ہوسکتا ہے۔

تاہم، انھوں نے کہا کہ بالآخر حیاتیات بھی اس کے لیے ایک کردار ادا کر سکتی ہے، جیسے جیسے والدین کی عمر زیادہ ہوتی ہے چھوٹے بہن بھائی زیادہ جینیاتی مسائل کے ساتھ پیدا ہوتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG