رسائی کے لنکس

مئی میں صدر ولادیمر پوتن نے کہا تھا کہ فوجیوں کی اموات ریاستی راز کی طرح خفیہ رہیں گی، نہ صرف جنگ کے زمانے میں بلکہ زمانہ امن میں بھی۔

شام میں تقریباً چار ہفتوں سے جاری روس کی فوجی مہم کے دوران ہلاک ہونے والے پہلے فوجی کی لاش جنوبی روس میں اس کے آبائی علاقے میں پہنچا دی گئی ہے لیکن اس کی موت کی وجہ سے متعلق متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔

روس کی وزارت دفاع نے فوجی کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ 19 سالہ وادم کوستنکو الاذقیہ میں ایک روسی فضائی اڈے پر بطور تکنیک کار تعینات تھا اور اس کی موت ہفتہ کو ہوئی۔

وزارت کے مطابق کوستنکو نے اپنی جان خود لی لیکن اس کے لواحقین کا کہنا ہے ایسا بظاہر ممکن نہیں۔

روسی خبر رساں ایجنسی انٹرفیکس نے وزارت دفاع کی معلومات عامہ کے ایک ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ "کوستنکو ہمیئمم فضائی اڈہ پر تعینات تھا جہاں اس نے اپنی ڈیوٹی ختم ہونے کے بعد خودکشی کی۔"

ذرائع کے مطابق ابتدائی تفتیش جن میں اس کے فون کے ٹیکسٹ میسجز سے بھی استفادہ کیا گیا، سے پتا چلا کہ اسے ایک لڑکی کے ساتھ اپنے تعلق میں مسائل درپیش تھے۔

لیکن متوفی کے والد الیگزینڈر کوستنکو نے خبر رساں ایجنسی "روئٹرز" کو بتایا کہ وہ اس بات پر یقین نہیں کرسکتے۔ " ہمیں بتایا گیا کہ اس نے ایک لڑکی کے لیے خود کو پھندے سے لٹکا لیا۔ میں اپنے بیٹے کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں، اس نے ایسا کبھی نہیں کیا ہوگا۔"

وادم کے والدین کا کہنا تھا کہ انھوں نے ہفتہ کو ہی اس سے بات کی تھی اور وہ بہت ہشاش معلوم ہو رہا تھا۔

وادم کی والدہ کا کہنا تھا کہ " میں کبھی بھی اس کی موت اس وجہ پر یقین نہیں کر سکتی۔ ہم روزانہ تقریباً ایک ڈیڑھ گھنٹہ فون پر بات کرتے تھے۔ ہفتہ کو بھی ہشاش بشاش تھا اور ہنس رہا تھا۔"

روس اپنے اہلکاروں کی ہلاکت کے معاملے کو صیغہ راز میں رکھتا ہے۔ مئی میں صدر ولادیمر پوتن نے کہا تھا کہ فوجیوں کی اموات ریاستی راز کی طرح خفیہ رہیں گی، نہ صرف جنگ کے زمانے میں بلکہ زمانہ امن میں بھی۔

XS
SM
MD
LG