رسائی کے لنکس

ماسٹر شیف پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اردو ون کی پیشکش تھا جو اتوار کی رات اختتام کو پہنچا۔ اسی پروگرام کے ذریعے پاکستان کو اپنا پہلا ماسٹر شیف ملا۔۔۔عمارہ نعمان کی صورت میں

اب سے کچھ سال پہلے تک جنوبی ایشیا خاص کر پاکستان میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ آئندہ سالوں میں کوکنگ شوز ٹی وی کے ذریعے اس قدر مقبول ہوجائیں گے کہ پوری دنیا ان کی دیوانی ہوجائے گی۔

پاکستان میں تو کئی چینلز ایسے ہیں جن سے 24 ،24 گھنٹے کوکنگ شوز پیش ہو رہے ہیں۔

’ماسٹر شیف‘ بھی درحقیقت ایک کوکنگ شوز ہی ہے۔ یہ ایسا فرنچائز پلیٹ فارم ہے جو لوگوں میں ایک سے بڑھ کر ایک کھانے کے مقابلے منعقد کراتا ہے۔ امریکہ، آسٹریلیا اور بھارت کے بعد پاکستان میں بھی ماسٹر شیف نے ایک نئی تاریخ رقم کی ہے۔

ماسٹر شیف پاکستان کے نجی ٹی وی چینل اردو ون کی پیشکش تھا جو اتوار کی رات اختتام کو پہنچا۔ اسی پروگرام کے ذریعے پاکستان کو اپنا پہلا ماسٹر شیف ملا ۔۔۔عمارہ نعمان کی صورت میں۔

کئی ماہ تک مختلف مراحل میں عمارہ نے نئے سے نئے چیلنج قبول کئے یہاں تک کہ فائنل میں بھی انہیں اپنی ہی جیسی دو خواتین سے سخت مقابلہ کرنا پڑا۔ یہ تھیں مدیحہ اور گلناز۔

مدیحہ اور گلناز نے انہیں اس قدر ٹف ٹائم دیا کہ آخر تک یہ اندازہ نہیں ہورہا تھا کہ آخر جیت کس کی ہوگی۔

عمارہ کو فائنل جیتنے پر پچاس لاکھ روپے نقد انعام ملا جبکہ انہیں ایک پروفیشنل شیف کے ساتھ تربیت حاصل کرنے کا بھی انمول موقع دیا گیا۔ ساتھ ہی ساتھ انہیں اپنی ریسپی کک بک بھی شائع کرنے کی پیشکش ہوئی۔

ان کے مقابلے میں گلناز دوسرے نمبر پر رہیں انہیں دس لاکھ اور تیسرے نمبر پر آنے والی مدیحہ کو پانچ لاکھ روپے انعام دیا گیا۔

عمارہ ہاوٴس وائف ہیں، جلد شادی ہوجانے کے سبب انہیں اپنی پڑھائی بھی مکمل کرنے کا موقع نہیں مل سکا۔ ’ہپ ان پاکستان ‘ کا کہنا ہے کہ انہیں ماسٹر شیف کا تاج پہنایا گیا ہے جس سے ہوسکتا ہے ان کا تعلیم مکمل نہ کرسکنے کا احساس کم ہوسکے۔

’ماسٹر شیف پاکستان ‘میں ججز کے فرائض ٹی وی شوز سے شہرت کی بلندیوں کو چھونے والے شیف ذاکر، شیف محبوب اور موون پک ہوٹل کراچی میں ایگزیکٹیو اسسٹنٹ منیجر کے عہدے پر فائض خرم اعوان نے اداکئے اور پاکستان کو اپنا پہلا ماسٹر شیف چننے میں بھرپور کردار ادا کیا۔

XS
SM
MD
LG