رسائی کے لنکس

نعمت شفیق کا انتخاب کے یونیورسٹی کے 16 ویں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ انھیں یونیورسٹی کی پہلی خاتون ڈائریکٹر ہونے کا بھی اعزاز حاصل ہوا ہے۔

لندن اسکول آف اکنامکس کی لگ بھگ ڈیڑھ سو سالہ تاریخ میں پہلی بار ایک خاتون کو اہم قائدانہ عہدے پر فائزکیا گیا ہے۔

نعمت شفیق کا انتخاب یونیورسٹی کے 16 ویں ڈائریکٹر کی حیثیت سے کیا گیا ہے۔ انھیں یونیورسٹی کی پہلی خاتون ڈائریکٹر ہونے کا اعزاز حاصل ہو ا ہے۔

برطانیہ کی معروف اور معتبر 'یونیورسٹی لندن اسکول آف اکنامکس اینڈ پولیٹیکل سائنس (ایل ایس ای )' کے اعلامیہ کے مطابق یونیورسٹی نے نعمت شفیق کو اس کا نیا ڈائریکٹر مقرر کیا ہے۔ وہ اگلے سال ستمبر کے شروع میں اپنا عہدہ سنبھالیں گی۔

نعمت شفیق کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ ''میں بہت خوش ہیں کہ مجھے یونیورسٹی کی قیادت کرنے کا موقع دیا گیا ہے''۔

انھوں نے کہا کہ یونیورسٹی نے سوشل سائنس کی تحقیق کے فروغ کے لیے بہترین کام کیا ہے اور وہ یونیورسٹی اسٹاف اور طلبہ کے ساتھ کام کرنے کی منتظر ہیں۔

نعمت شفیق ایک تربیت یافتہ ماہر اقتصادیات ہیں اور انھوں نے بین الاقوامی اداروں میں اعلیٰ عہدوں پر کام کیا ہے۔

نعمت شفیق فی الحال 'بینک آف انگلینڈ' میں نائب گورنر کی خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انھوں نے بینکاری کے اہم مرکزی کردار سے اپنا استعفی پیش کر دیا ہے تاہم وہ فروری تک اسی عہدے پر کام کرتی رہیں گی۔

نعمت شفیق نے عالمی بینک کے نائب صدر کی حیثیت سے خدمات انجام دی ہیں انھیں 36 سال کی عمر میں عالمی بینک کی تاریخ کی کم عمر ترین نائب صدر بننے کا بھی اعزاز حاصل رہا ہے۔

وہ امریکی یونیورسٹی پینسلوانیا کے وارٹن کالج اور جارج ٹاؤن یونیورسٹی میں معاشیات کی پروفیسر رہ چکی ہیں۔ انھوں نے اقتصادیات اور بین الاقوامی ترقی کے موضوعات پر بہت سے مضامین شائع کئے ہیں۔

نعمت شفیق امریکی اور برطانوی شہریت رکھتی ہیں وہ مصر کے شہر اسکندریہ میں پیدا ہوئیں ان کے خاندان نے 1960ء میں قاہرہ سے امریکہ ہجرت کی تھی۔

نعمت شفیق نے قاہرہ کی ایک امریکی یونیورسٹی میں ایک سال تعلیم کے بعد میساچوسٹس ایمہرسٹ سے معاشیات اور سیاسیات میں بی اے کی ڈگری حاصل کی ہے اور بعد میں آکسفورڈ یونیورسٹی، لندن اسکول آف اکنامکس سے پی ایچ ڈی کی ڈگری حاصل کی۔

صومالی نژاد نعمت طلعت شفیق لندن اسکول آف اکنامکس کی سابق طالبہ کی حیثیت سے تحقیق اور عوامی مصروفیات کی سرگرمیوں میں حصہ لیتی رہی ہیں۔

ماضی میں انھوں نے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ میں نائب منیجنگ ڈائریکٹر کی حیثیت سے شمولیت اختیار کی تھی 2008ء میں وہ بین الاقوامی ترقی کے شعبے کی مستقل سیکرٹری بن گئیں اور 2011ء میں انھیں یورپ اور مشرق وسطیٰ کے لیے آئی ایم ایف نائب منیجنگ ڈائریکٹر مقرر کیا گیا۔

فوربس میگزین نے دنیا کی با اثر خواتین کی نئی فہرست میں انھیں شہزادی کیٹ مڈلٹن، برطانیہ کی وزیر اعظم ٹریسا مئے اور ہیری پوٹر کی مصنفہ جے کے رولنگ سے زیادہ با اثر بتایا گیا ہے اور ان کا اندراج 66 ویں نمبر پر کیا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG