رسائی کے لنکس

قدامت پسند امریکی سیاسی کارکن فلس شلافلی انتقال کر گئی


فلس شلافلی (فائل فوٹو)

فلس شلافلی (فائل فوٹو)

فلس نے 1970 کی دہائی میں تَن تَنہا مساوی حقوق سے متعلق ایک مجوزہ آئینی ترمیم کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا اور بعد کے آنے والے کئی عشروں تک ریپبلکن پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت بنانے میں ان کا ایک کردار رہا ہے۔

امریکہ کی ایک قدامت پسند سرگرم کارکن اور تحریک نسواں کی مخالف فلس شلافلی 92 سال کی عمر میں انتقال کر گئی ہیں۔

ان کے بیٹے جان شلافلی نے بتایا کہ پیر کو فلس کی وفات سینٹ لوئیس میں واقع ان کے گھر میں ہوئی اور وہ سرطان کی مرض میں مبتلا تھیں۔

فلس نے 1970 کی دہائی میں تَن تَنہا مساوی حقوق سے متعلق ایک مجوزہ آئینی ترمیم کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا اور بعد کے آنے والے کئی عشروں تک ریپبلکن پارٹی کو دائیں بازو کی جماعت بنانے میں ان کا ایک کردار رہا ہے۔

فلس جو " تحریک نسواں مخالف خاتون اول" کے نام سے معروف تھیں، پہلی بار 1964 میں اس وقت قومی منظر نامے پر آئیں جب انہوں نے اپنی کتاب " اے چوائس ناٹ ان ایکو" یعنی یہ ' باز گشت نہیں پسند ہے' کو خود شائع کیا۔ یہ کتاب بعد میں انتہائی قدامت پسند طرز کی سیاسی سوچ کا منشور بن گئی۔

اس کتاب کی تین لاکھ کاپیاں فروخت ہوئیں۔ اس میں ریپبلکن نیشنل کنونشن کی تاریخ کو بھی رقم کیا گیا ہے۔ ایریزونا سے تعلق رکھنے والے قدامت پسند سینیڑ بیر گولڈ واٹر کی 1964 میں ریپبلکن جماعت کی طرف سے بطور صدارتی نامزدگی جیتنے کی ایک وجہ اسی کو قرار دیا جاتا ہے۔

بعدازاں فلس نے مساوی حقوق سے متعلق ایک مجوزہ آئینی ترمیم کی مخالفت کرنے والوں کی قیادت کی جس مجوزہ آئینی ترمیم میں جنس سے قطع ںظر مساوی حقوق تجویز کیے گئے تھے۔ فلس کا موقف تھا کہ اس اقدام سے روایتی خاندان کا خاتمہ ہو جائے گا۔

تاہم اس اقدام کے حامیوں کو موقف تھا کہ اس مجوزہ ترمیم کے تحت ایسی قانونی سازی کی ضرورت ہو گی جس کے تحت بچوں کے لیے امداد اور روزگار کے مواقع کا تعین بغیر جنس کی تخصیص کے کیا جائے گا۔

فلس نے خبر رساں ادارے 'اے پی' کو 2007 میں بتایا تھا کہ ان کا سب سے بڑا ورثہ 'ایگل فورم' ہے جس کی بنیاد انہوں نے 1972 میں رکھی تھی۔ انتہائی قدامت پسند تصور کیے جانے والے اس گروپ کی کئی ریاستوں میں شاخیں قائم ہیں اور اس گروپ کا دعویٰ ہے کہ اس کے ارکان کی تعداد اسی ہزار ہے۔

سینٹ لوئیس یونیورسٹی کے تاریخ کے پروفیسر ڈونلد کرٹچلو نے فلس کی شخصیت کے بارے میں اپنی کتاب " فلس شلافلی اینڈ گراس روٹ کنزرویٹزم: اے وویمنز کرسیڈ" یعنی "فلس شلافلی اور قدامت پسندی کی بنیاد: ایک خاتون کی تحریک" کا کہنا ہے کہ مساوی حقوق سے متعلق مجوزہ ترمیم کی ناکامی کی وجہ سے قدامت پسندی کو تقویت ملی اور یہی امر 1980 کے صدارتی انتخاب میں رونلڈ ریگن کی کامیابی کی وجہ بنی۔

فلس اپنی عمر کے آٹھویں عشرے میں بھی قدامت پسند سیاست میں سرگرمی سے حصہ لیتی رہیں اور کالم بھی لکھتی رہیں جو ایک سو اخبارات میں شائع ہوتا رہا جبکہ 460 سے زائد ریڈیو اسٹیشنز پر ان کے تبصرے بھی نشر ہوتے رہے۔ اس کے علاوہ وہ ہر ماہ ایک نیوز لیٹر بھی شائع کرتی تھیں۔

XS
SM
MD
LG