رسائی کے لنکس

یہ سندھ کے اس رنگا رنگ کلچر کا ایک چھوٹا سا ہے جو پورے پاکستان میں آپ کو کہیں اور دکھائی نہیں دے گا۔ اس کلچر کو پروان چڑھانے کے لئے سندھ کی حکومت تن من سے لگی ہوئی ہے۔

سرخ اور نارنجی رنگ کے دھاگوں سے بنی اور دھوپ میں دور دور تک چمک ’مارتے‘ شیشوں سے سجی ٹوپی، گلے میں پڑی کلیجی اور گہرے نیلے و کہیں کہیں سفید رنگ میں چھپی اجرک یا پیلے، لال، فیروزی، آسمانی اور ہرے رنگوں کے چھوٹے چھوٹے تکڑوں سے سجی سنوری ’رلی‘

دُور سے فضاؤں میں بلند ہوتی شاہ لطیف کی ’کافی‘ اور اس کی مخصوص موسیقی سنتے ہی ’من کا پنچھی‘ ایسے جھومنے لگتا ہے جیسے تھر کی سوندھی مٹی میں پہلی بارش کے قطروں کی خوشبو محسوس کرکے مور نانچنے لگتے ہیں۔

یہ سندھ کے اس رنگا رنگ کلچر کا ایک چھوٹا سا منظر ہے جو پورے پاکستان میں آپ کو کہیں اور دکھائی نہیں دے گا۔ اس کلچر کو پروان چڑھانے کے لئے صوبہ ِسندھ کی حکومت اور حکام ان دنوں تن من دھن سے لگے ہوئے ہیں خاص کر برسر ِاقتدار جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو، بختاور بھٹو اور وزیراعلیٰ سندھ کی مشیر شرمیلا فاروقی۔

بلاول بھٹو نے اگلے ماہ یعنی فروری کے شروع میں ’سندھ فیسٹیول‘ منانے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم اب اس فیسٹیول میں ایک نیا اضافہ کر دیا گیا ہے۔ یہ اضافہ ہے ’سندھ فیسٹیول‘ کے دوران ہی ’انٹرنیشنل فلم فیسٹیول‘ کے انعقاد کا۔

’سندھ انٹرنیشنل فلم فیسٹول‘ 10 اور 11 فروری کو منعقد کیا جائےگا۔ اس کے آرگنائزرز کو پوری پوری امید ہے کہ فیسٹیول سے نہ صرف پاکستان کی معیشت کو فائدہ پہنچے گا بلکہ اس بہانے اپنے احیاء کی جانب گامزن فلم انڈسٹری کو بھی اپنے پاؤں مزید مضبوط کرنے کا موقع ملے گا۔

سندھ سنسر بورڈ کے چیئرمین اور فیسٹول کے پروجیکٹ منیجر اور پوپ سنگر فخر ِعالم بہت پُرجوش ہیں اور کہتے ہیں کہ، ’فیسٹول کے ذریعے سندھ کے کلچر کو دنیا بھر کے لوگ دیکھیں اور سراہیں گے۔ ابھی تو شروعات ہے، سندھ فلم فیسٹیول کو ویسا ہی مقام ملے گا جیسا ’دبئی فلم فیسٹیول‘ کو حاصل ہے۔ وہ بھی صرف 10سال میں پروان چڑھا ہے‘۔

فیسٹول کی مارکینٹنگ جنوری کے وسط سے شرو ع ہوگی۔سندھ کے وزیراعلیٰ کی معاو ن خصوصی برائے کلچر شرمیلا فاروقی کا کہنا تھا کہ، ’فیسٹول میں انٹرنیشنل فلموں کے علاوہ 70کے عشرے کی مقبول فلموں کی بھی نمائش کی جائے گی۔ یہ فیسٹول فلم میکرز، ڈسٹریبوٹرز اور فلم بینوں کا ’میٹنگ پوائنٹ‘ ثابت ہوگا‘۔

انگریزی اخبار ’ایکسپریس ٹری بیون‘ کو ایک انٹرویو میں ڈائریکٹر اور فلم میکر اسد ذوالفقارکا کہنا ہے، ’فیسٹول کے لئے امریکا، یونان، میکسیکو، یوکے اور بیلجیم سے اینٹریز ملی ہیں لیکن پاکستان سے مزید اینٹریز کی ضرورت ہے۔ اینٹریز کی آخری تاریخ 15جنوری ہے‘۔
XS
SM
MD
LG