رسائی کے لنکس

تین افراد کے بچے کی پیدائش پر تحقیق کا آغاز تو 1990 کے عشرے میں ہو گیا تھا لیکن اسے حقیقت  کا روپ دھارنے میں دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ لگا۔

دنیا میں پہلا ایسا بچہ پیدا ہوگیا ہے جس کی پیدائش میں ماں اور باپ کے علاوہ ایک اور شخص بھی شامل ہے۔ جس کی وجہ یہ ہے کہ ماں کے جین میں ایک نقص تھا، جسے دور کرنے کے لیے ایک تیسرے شخص کا جین حاصل کیا گیا۔

بچوں کی جینیاتی بیماریوں کی روک تھام پر اس حوالے سے کافی عرصے سے تحقیق ہو رہی تھی۔ تاہم نئی سائنسی دریافت کی روشنی میں پہلا بچہ چھ اپریل کو پیدا ہوا تھا جس کا اعلان حال ہی میں کیا گیا ہے۔

جریدے ’ نیو سائنٹیفک ‘ کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ا س طریقے کے ذریعے پیدائش کی مدد سے بچے میں ماں کی جینیاتی خامیوں کو منتقل ہونے سے روکا گیا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بچے کی ماں تو صحت مند ہے لیکن اس کے ڈی این اے میں ایک خاص قسم کا نقص موجود ہے جس کی وجہ سے اس سے قبل اس کے دو بچے پیدا ہونے کے تھوڑے ہی عرصے کے بعد ہلاک ہو گئے تھے۔

نیویارک میں قائم نیو ہوپ فرٹیلیٹی سینٹر کے ایک ڈاکٹر جان زانگ نے بتایاکہ انہوں نے اپنے ساتھیوں کی مدد سے ماں کے بیضے سے خراب جین نکال کر اس کی جگہ میکسیکو کے ایک ڈونر کا جین شامل کیا۔

اس نئے طریقے کے ذریعے پیدا ہونے والا بچہ اب پانچ ماہ کا ہے اور ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ وہ صحت مند ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تین افراد کے ذریعے پیدا ہونے والے بچے میں زیادہ تر ڈی این اے اس کی حقیقی ماں اور باپ کی جانب سے ہی منتقل ہوتے ہیں اور عطیہ دینے والے کے ڈی این اے کا بہت ہی معمولی حصہ اس جگہ استعمال کیا جاتا ہے جہاں سے خراب جین نکالا جاتا ہے۔

تین افراد کے بچے کی پیدائش پر تحقیق کا آغاز تو 1990 کے عشرے میں ہو گیا تھا لیکن اسے حقیقت کا روپ دھارنے میں دو دہائیوں سے زیادہ کا عرصہ لگا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ معاشرتی پیچیدگیوں سے بچنے کے لیے ٹیسٹ ٹیوب بے بی سے ملتے جلتے اس طریقہ کار کا استعمال بہت احتیاط سے کرنے کی ضرورت ہے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG