رسائی کے لنکس

پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں 2017ء کی ابتدا سے ہی تیزی کا رجحان


فائل فوٹو

کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر تین کروڑ سے زائد حصص کا کاروبار ہوا اور مارکیٹ سرمایہ 9795 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

پاکستان اسٹاک ایکسچینج نے گزشتہ ماہ کی تیزی کے تسلسل کو برقرار رکھتے ہوئے نئے سال کے آغاز میں اسے جاری رکھا اور بینچ مارک ہنڈریڈ انڈیکس نے جنوری کے پہلے ہفتے ہی تاریخ کی بلند ترین سطح کو چھوا۔ اس پورے کاروباری ہفتے مارکیٹ نے زیادہ تر اڑان بھرے رکھی اور ہفتے کے اختتام پر پی ایس ایکس ہنڈریڈ انڈیکس 49 ہزار سے زائد پوائنٹس کی بلند ترین سطح پر بند ہوا۔

زیادہ تر ماہرین مارکیٹ میں اس تیزی کی وجہ چینی کنسورشیم کی جانب سے پاکستان اسٹاک ایکسچینج کے 40 فیصد حصص کی ڈائی ویسٹمنٹ ڈیل کو قرار دیتے ہیں۔

تاہم ٹاپ لائن سیکورٹیز کے چیف ایگزیکٹو، محمد سہیل کہتے ہیں۔

"پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کی نہ رکنے والی بہتری کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ پاکستان میں مقامی سرمایہ کاروں کے پاس جو کیش لیکویڈٹی ہے، وہ بہت زیادہ ہے۔ کیونکہ حکومت نے پچھلے بجٹ میں جو پراپرٹی سیکٹر کے لئے ٹیکس کی مد میں اقدام کئے تھے، وہ سارا پراپرٹی کا پیسہ بھی اسٹاک مارکیٹ میں آنے لگا ہے۔ اس کے علاوہ دنیا بھر میں، چاہے سوئٹزرلینڈ ہو، برطانیہ ہو، امریکہ ہو یا دبئی ہو، وہاں پہ قوانین تبدیل ہوگئے ہیں اور بہت سے پاکستانی سرمایہ کار اپنا پیسہ وہاں رکھنے کے بجائے یہاں لا رہے ہیں۔ اور تیسری وجہ لیکویڈٹی کی بینکنگ سیکٹر ہے، ان کے پاس جو پیسے ہیں وہ بھی اضافی ہیں، کیونکہ پہلے انہوں نے پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز میں سرمایہ کاری کی تھی ہائی ایلڈ پہ، وہ بانڈز اب میچور ہوگئے ہیں۔ تو اصل وجہ مارکیٹ کے بڑھنے کی مقامی لیکویڈٹی ہی ہے۔"

ان کا مزید کہنا تھا کہ اس کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جاسکتا ہے کہ "پچھلے تقریباً دو ماہ میں 25 کروڑ ڈالر کی غیر ملکی سرمایہ کاری، سرمایہ کاروں نے فروخت کی ہے۔ اور اس ساری فروخت کو جذب کیا ہے مقامی سرمایہ کار نے۔ اس کے باوجود مارکیٹ پچھلے دو ماہ میں پندرہ سے بیس فیصد بڑھ چکی ہے۔"

گزشتہ ہفتے بھارتی میڈیا میں بھی یہ خبر شائع ہوئی تھی کہ پاکستان ایشیا کی سب سے بڑی اسٹاک مارکیٹ بن گیا ہے جس کے حصص میں 2016ء کے دوران 45 فیصد اضافہ ہوا اور پاکستان نے اسٹاک منافع میں گزشتہ سولہ سالوں کے دوران بھارتی مارکیٹ کو مات دے دی ہے۔

انویسٹمنٹ بینکر اور کیپیٹل مارکیٹ ایکسپرٹ، میر محمد علی خان کا کہنا ہے کہ پاکستانی اسٹاک مارکیٹ کو اسی سال ایمرجنگ مارکیٹس میں جانے سے یہ ترقی حاصل ہورہی ہے، جس میں مزید اضافہ بھی دیکھا جائے گا۔

"مارکیٹ اس لئے اوپر جارہی ہے کیونکہ ہماری مارکیٹ کی جو ایویلیوایشن ہے، جس کو کپیٹل مارکیٹ کی زبان میں 'ملٹی پل' کہا جاتا ہے، وہ خطے کی دیگر مارکیٹس کے مقابلے میں بہت ہی کم ہے۔ ہم ابھی بھی دس کے ملٹی پل پر ٹریڈ ہورہے ہیں، جبکہ ریجنل مارکیٹس پندرہ کے ملٹی پل پہ ٹریڈ ہورہی ہیں۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ابھی بھی تیس یا پینتیس فیصد گروتھ مارکیٹ میں ہے۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ ہم اسی سال جون کے مہینے میں ایمرجنگ مارکیٹس میں جانے والے ہیں، جو کپیٹل مارکیٹس کے لئے بہت بڑا قدم ہوتا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ "چین کی مارکیٹ ایمرجنگ مارکیٹس کے لئے مسترد کردی گئی، اور ہم کوالیفائی کرگئے ہیں۔ تو بہت سارے فنڈز پاکستان میں آئیں گے، صرف اسی سال مارکیٹ میں پانچ سو سے چھ سو ملین ڈالر کی خریداری آنے کی امید کی جارہی ہے۔ تیسری وجہ، پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی ڈائیویسٹمنٹ کو کہا جاسکتا ہے، جس میں پینتیس فیصد چینی کنسورشیم اور حبیب بینک لمیٹڈ نے پانچ فیصد، کل ملا کے چالیس فیصد کی جو خریداری کی ہے، اس کے باعث بھی ہمارے یہاں مزید خریداری ہورہی ہے۔ پھر لوگوں کی نظر میں ہم آئے ہیں، اور تقریباً پانچ فیصد کے اوپر ہماری جی ڈی پی بڑھ رہی ہے، اس کے علاوہ سی پیک کا منصوبہ ہے، تو یہ سارے عوامل ایک خوبصورت اور ترقی کرتے پاکستان کی عکاسی کرتے نظر آتے ہیں۔"

کاروباری ہفتے کے آخری روز جمعہ کو پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں مجموعی طور پر تین کروڑ سے زائد حصص کا کاروبار ہوا اور مارکیٹ سرمایہ 9795 ارب روپے ریکارڈ کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG