رسائی کے لنکس

امریکہ: صدر اوباما اور اسپیکر بینر کی ملاقات


اسپیکر ایک چارٹ کے ذریعے ٹیکسوں اور اخراجات پر اپنی موقف واضح کررہے ہیں۔ 13 دسمبر 2012
اسپیکر ایک چارٹ کے ذریعے ٹیکسوں اور اخراجات پر اپنی موقف واضح کررہے ہیں۔ 13 دسمبر 2012

صدر براک اوباما جو ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے گھرانوں پر ٹیکس بڑھانے پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں، اب اس حد کو چارلاکھ ڈالر تک لے جانے پرتیار ہیں۔

امریکہ میں حکمران جماعت اور حزب اختلاف ٹیکسوں میں اضافے اور اہم شعبوں میں سرکاری اخراجات پر جاری اختلافات کے حل کی طرف بڑھتے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں ۔

ڈیموکریٹس اور ری پبلیکنز کے درمیان معاہدے کی راہ میں کچھ رکاوٹیں اب بھی باقی ہیں ، لیکن صدر براک اوباما اور حزب اختلاف کے راہنما جان بینر نے اس سلسلے میں منگل کے روز ایک معاہدے کے خاکے پر بات چیت کی۔

صدر براک اوباما دوسری صدارتی مدت کے لیے اپنی انتخابی مہم کے دوران ڈھائی لاکھ ڈالر سالانہ سے زیادہ آمدنی حاصل کرنے والے گھرانوں پر ٹیکس بڑھانے پر مسلسل زور دیتے رہے ہیں، لیکن اب ان کا کہناہے کہ وہ اس حد کو چارلاکھ ڈالر تک لے جانے پرتیار ہیں۔

جب کہ ری پبلیکن اسپیکر جان بینر کا کہناہے کہ وہ چاہتے ہیں کہ یہ حد بڑھا کر دس لاکھ ڈالر کردی جائے۔

مسٹر اوباما نے اگلے عشرے کے لیے بجٹ خسارہ کم کرنے کی اپنی حد بھی گھٹا دی ہے اور اب وہ اسے ایک اعشاریہ چار ٹریلین ڈالر سے گھٹا کر ایک اعشاریہ دو ٹریلین ڈالر کی سطح پر لے جانے کے لیے تیار ہیں۔

وہ ری پبلیکنز کا یہ مطالبہ ماننے کے لیے بھی تیار ہیں کہ ریٹائرڈ سرکاری ملازموں کی پنشن کے اخراجات میں بھی کم کردیے جائیں۔

اگرچہ صدر اوباما اور اسپیکر بینر ایک معاہدے کے نزدیک پہنچ رہے ہیں لیکن دونوں کے لیے اصل مسئلہ یہ ہے کہ آیا وہ دونوں اپنی پارٹی کے لیڈروں کو اس پرقائل کرسکیں گے۔

دونوں فریق ٹیکسوں میں اضافے اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیوں کے اس خود کار نظام سے بچنے کی کوشش کررہے ہیں جسے اقتصادی ماہرین ’ فسکل کلف‘ کا نام دے رہے ہیں۔ اگر دونوں فریق آئندہ چند روز میں اس پر قانون سازی میں ناکام رہے تو یکم جنوری سے تقریباً پانچ کھرب ڈالر کے مساوی اضافی ٹیکس اور سرکاری اخراجات میں کٹوتیاں نافذ ہوجائیں گی۔
XS
SM
MD
LG