رسائی کے لنکس

مصر : مرسی حکومت کی برطرفی کو ایک سال مکمل


'رائٹرز' کے مطابق جمعرات کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے شرکا کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ تھی۔

'رائٹرز' کے مطابق جمعرات کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے شرکا کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ تھی۔

مصری حکام کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں معزول صدر کے حامی مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں میں جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے۔

مصر کے اسلام پسند معزول صدر محمد مرسی کے خلاف فوجی بغاوت کا ایک سال مکمل ہونے پر ملک میں ہونے والے پرتشدد واقعات میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ہلاکتیں مصر کے مختلف شہروں میں گزشتہ سال کی فوجی بغاوت کے خلاف ہونے والے احتجاجی مظاہروں کےشرکا اور پولیس میں جھڑپوں اور ایک بم دھماکے کے نتیجے میں ہوئیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی 'رائٹرز' کے مطابق جمعرات کو ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے شرکا کی تعداد معمول سے کہیں زیادہ تھی۔

صدر مرسی کی حکومت کے جبری خاتمے کا ایک سال مکمل ہونے پر دارالحکومت قاہرہ سمیت ملک کے بیشتر بڑے شہروں میں سکیورٹی کے انتہائی سخت انتظامات کیے گئے تھے۔

مصری سکیورٹی فورسز کی بکتر بند گاڑیوں نے شہر کے مرکزی چوک 'تحریر اسکوائر' کی طرف جانے والے راستے بند کردیے تھے تاکہ مظاہرین کو حکومت مخالف احتجاج کے اس علامتی مقام پر جمع ہونے سے روکا جاسکے۔

مصری حکام کے مطابق دارالحکومت قاہرہ میں معزول صدر کے حامی مظاہرین اور سکیورٹی اہلکاروں میں جھڑپوں کے دوران تین افراد ہلاک ہوئے۔

حکام کے مطابق احتجاج نے شہر کے پوش اور غریب علاقوں کو یکساں متاثر کیا اور شہر کی مجموعی صورتِ حال سخت کشیدہ رہی۔

اس سے قبل جمعرات کو ہی قاہرہ کے مغربی ضلعے کرداسا میں ایک فلیٹ میں ہونے والے بم دھماکے میں دو افراد ہلاک ہوگئے۔

جمعرات کو قاہرہ کے کئی دیگر علاقوں میں بھی پولیس چوکیوں اور گشتی گاڑیوں کے نزدیک گھریلو ساختہ بموں کے دھماکے ہوئے جن میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

ان دھماکوں کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن دارالحکومت میں حالیہ ہفتوں کے دوران اس نوعیت کے چھوٹے بموں کے کئی دھماکے ہوچکے ہیں۔

محمد مرسی کی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے عرب دنیا کے اس گنجان ترین ملک میں کئی چھوٹے چھوٹے شدت پسند گروہ سرگرم ہوگئے ہیں جنہوں نے اسلام پسند حکومت کے خلاف فوجی بغاوت کے ردِ عمل میں پولیس اور فوجی اہلکاروں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر رکھا ہے۔

فوج کی حمایت یافتہ مصری حکومت صدر مرسی کی جماعت 'اخوان المسلمون' کو دہشت گرد جماعت قرار دے کر اس کے تمام اثاثے ضبط کرچکی ہے۔

لیکن اخوان کی قیادت کا کہنا ہے کہ وہ پرتشدد راستے اختیار کرنے پر یقین نہیں رکھتے اور گزشتہ سال کی فوجی بغاوت کے خلاف پرامن احتجاج جاری رکھیں گے۔

تین جولائی 2013ء کی فوجی بغاوت سے قبل مصر پر برسرِ اقتدار 'اخوان المسلمون' ملک کی سب سے منظم اور بڑی جماعت تھی جس نے 2011ء میں سابق آمر حسنی مبارک کی حکومت کے خاتمے کے بعد ہونے والے مختلف سطح کے تمام پانچ انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی۔

لیکن اس وقت کے فوجی سربراہ اور موجودہ صدر عبدالفتاح السیسی کی قیادت میں مصری فوج کی محمد مرسی کی حکومت کے خلاف بغاوت کے بعد سے 'اخوان المسلمون' کے کارکنوں اور حامیوں کے خلاف ملک بھر میں سخت کریک ڈاؤن جاری ہے جس میں اب تک دو ہزار کے لگ بھگ افراد مارے جاچکے ہیں۔

مصر کی عبوری حکومت اخوان کو "دہشت گرد تنظیم" قرار دے کر اس پر پابندی عائد کرچکی ہے جب کہ معزول صدر سمیت تنظیم کی تمام قیادت اور ہزاروں کارکن جیلوں میں قید ہیں اور مختلف الزامات کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔

محمد مرسی جدید مصر کی تاریخ کے پہلے غیر فوجی اور جمہوری طریقے سے منتخب ہونے والے صدر تھے جنہیں فوجی جنتا نے اقتدار میں آنے کے صرف ایک سال بعد ہی برطرف کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG