رسائی کے لنکس

کرد جنگجووں کا ترک فوج پر حملہ، پانچ افراد ہلاک


فائل

فائل

کرد جنگجووں کے ٹھکانوں پر ترکی کی بمباری کے بعد سے ترک فوج اور سرکاری املاک پر باغیوں کے حملوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔

ترکی کے جنوب مشرقی علاقے میں کرد باغیوں کے سکیورٹی فورسز پر دو مختلف حملوں میں کم از کم پانچ افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔

ترک فوج نے جمعرات کو اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ علیحدگی پسند مسلح تنظیم 'کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے)' سے تعلق رکھنے والے جنگجووں نے جمعرات کو عراق کی سرحد کے نزدیک صوبہ سرنک میں ایک فوجی قافلے کو نشانہ بنایا۔

بیان کے مطابق جنگجووں نے فوجی قافلے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں پر فائرنگ کی جس کےنتیجے میں ایک افسر سمیت تین اہلکار ہلاک ہوگئے۔ فوجی دستے کی جوابی کارروائی میں ایک جنگجو بھی مارا گیا۔

اس سے قبل بدھ کی شب کرد باغیوں نے کرد اکثریتی شہر دیار باکیر کے ایک قہوہ خانے میں فائرنگ کردی تھی جس سے ایک پولیس افسر اور ایک عام شہری ہلاک ہوگئے تھے۔

ترکی نے گزشتہ ہفتے اپنے جنوب مشرقی علاقوں اور شمالی عراق میں 'پی کے کے' کےٹھکانوں پر چھاپوں اور بمباری کا آغاز کیا تھا جس کے بعد سے کرد اکثریتی علاقوں کی فضا کشیدہ ہے۔

کرد جنگجووں کے ٹھکانوں پر ترکی کی بمباری کے بعد سے ترک فوج اور سرکاری املاک پر باغیوں کے حملوں میں بھی تیزی آگئی ہے۔

ترک فوج کرد جنگجووں کے ساتھ ساتھ شام اور عراق میں گزشتہ ہفتے سے داعش کے ٹھکانوں پر بھی فضائی بمباری کر رہی ہے۔

کرد باغیوں کے خلاف ترکی کی اس اچانک کارروائی کے نتیجے میں 'پی کے کے' اور ترک حکومت کے درمیان 2012ء سے جاری امن عمل خطرے میں پڑ گیا ہے جس کے تحت تنظیم کے بیشتر جنگجو ہتھیار ڈال کر ترک علاقوں سے عراقی کردستان منتقل ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG