رسائی کے لنکس

شام میں ایرانی سمیت پانچ نیوکلیئر انجینئر قتل


فائل

فائل

حملہ جس علاقے میں ہوا وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے۔

شام میں نامعلوم مسلح افراد نے دارالحکومت دمشق کے نواح میں پانچ نیوکلیئر انجینئروں کو ہدف بنا کر قتل کردیا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورتِ حال کی نگرانی کرنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس' کے مطابق قتل کی یہ واردات اتوار کو پیش آئی تھی جس میں مرنے والے چار انجینئر شامی جب کہ ایک کا تعلق ایران سے تھا۔

'آبزرویٹری' کے مطابق پانچوں انجینئر ایک قافلے کے ہمراہ شمال مشرقی ضلع بارزہ کے نزدیک قائم ایک تحقیقی مرکز جارہے تھے جب ان پر گھات لگا کر حملہ کیا گیا۔

حملہ جس علاقے میں ہوا وہ صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی فوجی دستوں کے کنٹرول میں ہے۔ تاحال حملے کی ذمہ داری کسی نے قبول نہیں کی ہے لیکن حیرت انگیز طور پر شام اور ایران کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے اس حملے کے متعلق کوئی خبر شائع یا نشر نہیں کی ہے۔

تاحال یہ بھی واضح نہیں کہ اگر حملے میں ایرانی اہلکار کے قتل کی خبر درست ہے تو اس کی شام میں موجودگی کا کیا وجہ یا جواز تھا؟

خیال رہے کہ شام میں گزشتہ تین برسوں سے جاری خانہ جنگی کے دوران ایران نے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کی ہر طرح مدد کی ہے اور شام کے طول و عرض میں باغیوں کے ساتھ لڑائی میں شامی افواج کی مدد اور رہنمائی کےلیے سیکڑوں ایرانی فوجی مشیر تعینات ہیں۔

دونوں ہی ملکوں پر اقوامِ متحدہ کی جوہری توانائی ایجنسی کو شبہ ہے کہ ان کا جوہری پروگرام پرامن نہیں اور وہ اس کی آڑ میں ایٹمی ہتھیار تیار کرنے کی کوشش کررہے ہیں۔

تاہم دونوں ملکوں کی حکومتیں ماضی میں کئی بار ان الزامات کی تردید کرچکی ہیں۔

XS
SM
MD
LG