رسائی کے لنکس

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کراچی میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کی وجہ سے کمزور پڑگئی تھی۔ مکنیوں نے بتایا ہے کہ انہوں نے کئی ماہ پہلے بلڈنگ کے مالک کو عمارت کی مرمت کرانے پر زور دیا تھا۔ لیکن، مالک نے مکینوں کی بات سنی ان سنی کر دی

کراچی کے قدیم علاقے، کھارادر میں حسیناں ایرانیاں امام بارگاہ کے قریب واقع ایک پانچ منزلہ خستہ حال عمارت منہدم ہوگئی۔ تاہم، خوش قسمتی سے حادثے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا۔

عمارت میں کوئی بھی شخص رہائش پذیر نہیں تھا۔ حال ہی میں کمشنر کراچی کی ہدایت پر اس عمارت کو بوسیدہ اور رہائش کے لئے خطرناک قرار دیے جانے کے باعث خالی کرا لیا گیا تھا۔

عمارت کے کچھ حصے منگل اور بدھ کی درمیانی شب زمین بوس ہوگئے تھے جبکہ بقیہ حصے بدھ کی صبح منہدم ہوئے۔ اس دوران، عمارت کو خالی کرنے سے قبل یہاں رہنے والے کچھ مکینوں نے وہاں رکھا ہوا اپنا کچھ سامان باہر نکال لیا۔ تاہم، جو سامان باہر نہیں نکالا جا سکا وہ ملبے کے ڈھیر میں دب گیا۔

بدھ کی شام وائس آف امریکہ کے نمائندے سے بات کرتے ہوئے مکنیوں نے بتایا کہ انہوں نے کئی ماہ پہلے بلڈنگ کے مالک کو عمارت کی مرمت کرانے پر زور دیا تھا، لیکن مالک نے مکینوں کی بات سنی ان سنی کردی۔

کچھ مکینوں نے علاقے سے تعلق رکھنے والے رکن صوبائی اسمبلی جاوید ناگوری سے بھی اس کی شکایت کی کہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت خدمات انجام دیں، حکومت یا انتظامیہ کی طرف سے انہیں مناسب مدد یا تعاون نہیں ملا۔

ایم پی اے جاوید ناگوری بدھ کی شام علاقے کے دورے پر تھے۔ انہوں نے عمارت کا ملبہ اٹھانے پر مامور عملے کو ہدایات بھی جاری کیں۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ عمارت کراچی میں گزشتہ دو روز کے دوران ہونے والی بارش کی وجہ سے کمزور پڑگئی تھی۔

شہر کی 288 عمارات خطرناک قرار
کراچی میں پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے بھی قبل تعمیر ہونے والی عمارتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ زیادہ تر عمارتیں ایم اے جناح روڈ، اولڈ سٹی ایریا، کھاردر، لیاری، برنس روڈ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں واقعے ہیں۔ بیشتر عمارات برطانوی دور حکومت کی ہیں جبکہ انگنت عمارتیں ہندوٴاور پارسی طرز تعمیر بھی رکھتی ہیں۔

مذکورہ عمارتوں میں سے سینکڑوں عمارات کو ہر سال کی طرح اس بار بھی برسات کے موسم سے کچھ ہفتے قبل بوسیدہ اور رہائش کے لئے انتہائی خطرناک قرار دیا جاچکا ہے۔

پاکستان کے سرکاری خبررساں ادارے اے پی پی کا کہنا ہے کہ سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی کی جانب سے گزشتہ روز یعنی پیر کو ہی 288عمارتوں کو خطرناک قرار دیا گیا تھا۔ اتھارٹی کے قائم مقام ڈائریکٹرجنرل ممتاز حیدر کے مطابق بوسیدہ اور رہائش کے لئے انتہائی خطرناک قرار دی گئی عمارات کی فہرست اتھارٹی کی نگرانی میں ماہرین تعمیرات اور تجربہ کار انجینئر ز پر مشتمل ٹیکنکل کمیٹی نے مرتب کی ہے۔

اتھارٹی کی جانب سے لاوٴڈ اسپیکرز پر بہ آواز بلند عمارتوں کے مکینوں کو متنبہ کیا گیا کہ خستہ حال عمارتیں خالی کردیں، برسات کے موسم میں یہ عمارتیں موسلا دھار بارشوں کا مقابلہ نہیں کرسکتیں اور کسی بھی وقت زمین بوس ہوسکتی ہیں۔

انتظامیہ اور اتھارٹی کے حکام کا کہنا ہے کہ بار بار کی تنبیہ کے باوجود عمارت میں رہائش پذیر لوگ خستہ حال بلڈنگز خالی کرنے پر آمادہ نہیں۔

XS
SM
MD
LG