رسائی کے لنکس

خیبر ایجنسی: فورسز سے جھڑپ میں پانچ 'دہشت گرد' ہلاک


فائل فوٹو

فائل فوٹو

خیبر ایجنسی میں گزشتہ اکتوبر سے پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی تھی جس میں گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد تیزی آئی۔

افغان سرحد سے ملحقہ پاکستان کے قبائلی علاقے خیبر ایجنسی میں سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں کم ازکم پانچ مشتبہ شدت پسند ہلاک ہو گئے ہیں۔

سکیورٹی ذرائع کے مطابق اتوار کی صبح یہ جھڑپ وادی تیراہ کے علاقے نارائے بابا کے علاقے میں ہوئی۔

جھڑپ میں تین سکیورٹی اہلکار زخمی ہو گئے جنہیں پشاور کے فوجی اسپتال منتقل کر دیا گیا۔

خیبر ایجنسی میں گزشتہ اکتوبر سے پاکستانی فوج نے شدت پسندوں کے خلاف بھرپور کارروائی شروع کر رکھی تھی جس میں گزشتہ دسمبر میں پشاور کے آرمی پبلک اسکول پر دہشت گرد حملے کے بعد تیزی آئی۔

اس آپریشن میں اب تک فوجی حکام درجنوں مشتبہ شدت پسندوں کو ہلاک کرنے کا دعویٰ کر چکے ہیں جب کہ ان کے متعدد ٹھکانوں کو تباہ بھی کیا جا چکا ہے۔

جس علاقے میں یہ کارروائیاں جاری ہیں وہاں ذرائع ابلاغ کی رسائی نہ ہونے کی وجہ سے یہاں ہونے والی ہلاکتوں اور واقعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق تقریباً ناممکن ہے۔

خیبر ایجنسی میں فوجی آپریشن کے باعث لاکھوں افراد نقل مکانی پر مجبور ہوئے تھے اور گزشتہ ماہ ہی ملحقہ صوبہ خیبر پختونخواہ میں عارضی طور پر مقیم ان قبائلیوں کی مرحلہ وار اپنے علاقوں کو واپسی شروع ہوئی تھی۔

XS
SM
MD
LG