رسائی کے لنکس

سیلاب زدہ بچوں کوحفاظتی ٹیکے لگانے کی خصوصی مہم

  • حسن سید

حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے سلسلے میں منعقدہ مہم میں شریک عہدیدار

حفاظتی ٹیکوں کی مہم کے سلسلے میں منعقدہ مہم میں شریک عہدیدار

وزارت صحت کے ڈاکٹر الطاف بوسن کا کہنا ہے کہ حفاظتی ٹیکے اگرچہ اب بھی جزوی طور پر متاثرہ علاقوں میں لگائے جا رہے ہیں لیکن بھرپور مہم پندرہ ستمبرسے شروع کی جائے گی جو بارہ روز تک جاری رہے گی اور اس دوران تین مرحلوں میں سیلاب سے متاثرہ ستتر اضلاع میں بچوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے

بین الاقوامی امدادی اداروں اور محکمہ صحت کے عہدیداروں نے اس تشویش کا اظہار کیا ہے کہ پاکستان کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں پانچ سال سے کم عمر کے بیس لاکھ سے زائد بچوں کو متعدی امراض سے خطرہ لاحق ہے، اور یہ امراض بڑی تعداد میں ان کی ہلاکتوں یا اعضاء کی مفلوجی کا باعث بن سکتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت کے بعد لاکھوں کی تعداد میں متاثرہ آبادی کی ایک سے دوسری جگہ نقل مکانی، صفائی کی ناقص صورت حال اور گندے پانی سے بچوں کو آٹھ متعدی امراض سے خطرہ ہے جن میں پولیو، خسرہ، کالی کھانسی، تشنج اور انفلونزا شامل ہیں۔

اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے وزارت صحت اور بچوں کے لیے اقوام متحدہ کا ادارہ یونیسف حفاظتی ٹیکوں کی ایک بڑی مہم شروع کر رہے ہیں جس کے تحت نہ صرف وہ بچے جنھیں خطرہ لاحق ہے بلکہ متاثرہ علاقوں میں موجود پانچ سال سے کم عمر کے تقریبا ڈھائی کروڑ بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگائے جا رہے ہیں اس سے قطع نظر کے انھیں پہلے ٹیکے لگے ہیں یا نہیں۔

مہم کی ایک خاص بات یہ ہے کہ اس کو کامیاب بنانے کے لیے مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے ارکان پا رلیمان پر مشتمل ایک گروپ بھی تشکیل دیا گیا ہے جو نہ صرف ہیلتھ ٹیموں کی مدد اور رہنمائی کرے گا بلکہ اپنے اپنے حلقوں میں والدین کو بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے کے لیے متحرک کرے گا اور ان افراد کے وسوسے دور کرنے کے لیے بھی کام کرے گا جو لا علمی کی بنیاد پر بچوں کو حفاظتی ٹیکے لگوانے سے ہچکچاتے ہیں۔

وزارت صحت کے ڈاکٹر الطاف بوسن نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں بتایا کہ حفاظتی ٹیکے اگرچہ اب بھی جزوی طور پر متاثرہ علاقوں میں لگائے جا رہے ہیں لیکن بھرپور مہم پندرہ ستمبرسے شروع کی جائے گی جو بارہ روز تک جاری رہے گی اور اس دوران تین مرحلوں میں سیلاب سے متاثرہ ستتر اضلاع میں بچوں کو ٹیکے لگائے جائیں گے۔

پاکستان پیپلز پارٹی سے تعلق رکھنے والے، قومی اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر فیصل کریم کنڈی نے کہا کہ صوبہ سرحد میں سڑکوں کے بنیادی ڈھانچےکو سیلابوں سے ہونے والے نقصانات کے باعث منٹوں کے فاصلے اب گھنٹوں میں طے ہوتے ہیں اس لیےحفاظتی ٹیکے لگانے کے لیے تمام بچوں تک پہنچنا ایک بڑا چیلنج ہو گا۔

سیلاب نے پاکستان بھر میں صحت کے تقریبا پانچ سو مراکز کو نقصان پہنچایا ہے اور خصوصاً دیہی علاقوں میں33 فیصد طبی ماہرین بھی اس قدرتی آفت کےنتیجے میں بے گھر ہو گئے ہیں۔

دریں اثنا بین الاقوامی ریڈ کراس کمیٹی یا آئی سی آر سی نے انکشاف کیا ہے کہ سیلا ب سے متاثرہ کئی خاندانوں کے بچے بھی ان سے بچھڑ گئے ہیں جو ایک تشویش ناک امر ہے اور اس بین الاقوامی تنظیم نے ایسے بچوں کو اُن کے رشتہ داروں سے ملانے کے لیے کوششیں شروع کر رکھی ہیں۔ تاہم تنظیم کے عہدے داروں نے فوری طور پر ایسے بچوں کی صحیح تعداد کے بارے میں قیاس آرائی کرنے سے گریز کیا ہے۔

XS
SM
MD
LG