رسائی کے لنکس

وفاقی اور صوبائی حکومتوں کی طرف سے ”350 ارب روپے“ فراہم کرنے کی توقع


چارسدہ کے علاقے میں سیلاب سے متاثرہ افراد

چارسدہ کے علاقے میں سیلاب سے متاثرہ افراد

حزب اختلاف کی جماعت مسلم لیگ (ن ) کے قائد نواز شریف نے اس توقع کا اظہا ر کیا ہے کہ وفاقی اور صوبائی حکومتیں مل کر سیلاب زدگان کی امداد کے لیے تقریباً ساڑھے تین سوارب روپے جمع کریں گی۔

اتوار کے روز اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگومیں نواز شریف نے بتایا کہ ایک روز قبل اُن کی وزیراعظم یوسف رضا گیلانی سے ملاقات میں اس بات پر اتفاق کیا گیا تھا کہ وفاقی وزیرخزانہ حفیظ شیخ اور مسلم لیگ (ن) کے رہنماء اسحاق ڈار مل کر اس بارے میں لائحہ عمل تیار کریں گے اور ایک فارمولے کے تحت وفاقی اور صوبائی حکومتوں کو ”غالباً“ یہ کہا جائے گا کہ وہ اپنے سالانہ بجٹ میں 30 فیصد تک کٹوتی کر کے سیلاب سے متاثرہ افراد کی بحالی کے لیے ابتدائی رقم فراہم کریں۔

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف

مسلم لیگ (ن) کے قائد نواز شریف

نواز شریف نے بتایا کہ ایک غیر جانبدار کمیشن حکومت کی طرف سے فراہم کردہ رقوم اور دیگر امداد کو اکٹھا کر کے اس کے شفاف استعمال کو یقینی بنائے گا۔ اس کمیشن کی تشکیل کا فیصلہ وزیراعظم گیلانی اور نواز کی ملاقات میں ہفتے کے روز کیا گیا تھا۔ مسلم لیگ (ن) کے قائدنے بتایا کہ یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ حکومتیں اپنے ترقیاتی اخراجات میں کٹوتی کر کے متاثرہ افراد کے لیے رقم اکٹھی کریں گے اور اس کے بعد عوام سے اپیل کی جائے گی کہ وہ بھی کھلے دل کے ساتھ عطیات فراہم کریں۔

ایک سوال کے جواب میں نواز شریف نے کہا کہ امدادی رقوم اکٹھی کرنے اور اُن کے شفاف استعمال کے لیے کمیشن کی تشکیل کا مقصد یہ ہر گز نہیں کہ قو م کو سیاستدانوں پر اعتماد نہیں ۔ اُنھوں نے کہا کہ اب بھی ایسے سیاست دان ہیں جنہیں انتہائی قدر کی نگا ہ سے دیکھاجاتا ہے ۔ تاحال اس کمیشن میں شامل افراد کے بارے میں سرکاری طور پر کچھ نہیں بتایا گیا ہے تاہم نواز شریف نے اس توقع کا اظہار کیا ہے کہ کمیشن کا اعلان جلد کر دیا جائے گا۔

پاکستان میں حالیہ سیلاب سے تقریباً دو کروڑ افراد متاثرہوئے ہیں اور سات لاکھ 22 ہزار سے زائد مکانات کو نقصان پہنچا ہے جب کہ صرف زراعت کے شعبے میں اب تک ہونے والے نقصانات کا تخمینہ ایک ارب ڈالر لگایا جا رہا ہے۔

حکومت پاکستان اور عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ سیلاب زدگان کی بحالی کے ساتھ ساتھ سڑکوں ،پلوں اورانتظامی ڈھانچے کو دوبارہ فعال بنانے کے لیے اربوں ڈالر درکار ہوں گے۔

XS
SM
MD
LG