رسائی کے لنکس

صوبہ سندھ میں بارشوں کا نیا سلسلہ گزشتہ تین روز سے مسلسل جاری ہے جس کے باعث ندی نالوں اور نہروں میں طغیانی سے مزید دیہات زیر آب آ گئے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ سندھ میں بارشوں اور سیلاب سے اب تک 49 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں19 خواتین بھی شامل ہیں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق سندھ میں بارشوں کا سلسلہ آئندہ تین سے چار روز تک جاری رہے گا۔

اس سے قبل صوبہ خیبر پختونخواہ میں سب سے زیادہ جانی نقصان کوہستان کے علاقے میں ہوا جہاں سیلابی ریلوں میں بہہ کر کم از کم 66 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

این ڈی ایم اے کے ترجمان احمد کمال نے بتایا کہ ”سیلا ب سے سندھ میں 9367 دیہات اور20 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ 24 لاکھ 97 ہزار ایکڑ رقبہ زیر آب آ یا، چھ لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کاشت فصلوں کو نقصان پہنچنے کے علاوہ 64 ہزار مال مویشی بھی یا تو ہلاک ہو گئے ہیں یا پھر سیلابی ریلوں میں بہہ گئے ہیں ۔“

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ حکومت ساڑھے تین لاکھ افراد کو سات سے 10 روز کا خشک راشن پہنچانے کے لیے ہنگامی اقدامات کر رہی ہے جب کہ نہروں پر قائم بندوں میں پڑنے والے شگافوں کو پرکرنے کے لیے بھی ہنگامی بنیادوں پر کام ہور ہا ہے جب کہ نو رکنی ٹیم بھی سندھ بھیجی جا رہی ہے جو مقامی انتظامیہ کے ساتھ مل کر حالات کا جائزہ لے گی۔

احمد کمال نے بتایا کہ سیلاب متاثرین کے لیے سندھ میں 386 امدادی کیمپ قائم کیے گئے ہیں اور متاثرہ خاندانوں میں سے نوے ہزار لوگ حکومت کے قائم کردہ عارضی کیمپوں میں مقیم ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے ترجمان نے کہا ہے کہ مون سون بارشوں اور سیلاب سے ہونے والے نقصانا ت سے مقامی وسائل کو بروئے کار لا کر نمٹا جا رہا ہے اور پاکستان بین الاقوامی برادری سے صرف اُسی صورت مدد مانگے گا جب ایسا کرنا ناگزیر ہو ۔ تاہم اُن کا کہنا ہے کہ موسم سرما سے قبل کوہستان میں بے گھر ہونے والے خاندانوں کے لیے عارضی رہائش گاہیں بنانے میں حکومت پاکستان اقوام متحدہ کے تعاون کا خیر مقدم کرے گی۔

گزشتہ سال جولائی اور اگست میں غیر معمولی بارشوں کے باعث پاکستان کو اپنی تاریخ کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا تھا اور نقصانات کا تخمینہ تقریباً 10 ارب ڈالر لگایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG