رسائی کے لنکس

سیلاب سے متاثرہ علاقوں کو ’آفت زدہ‘ قرار دے دیا گیا: نواز شریف


فات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ ہلاکتوں کی تعداد 280 ہو چکی ہے۔

پاکستان کے صوبہ پنجاب کے جنوبی اضلاع میں سیلاب کی تباہ کاریاں جاری ہیں اور وزیراعظم نواز شریف نے ہفتہ کو کہا کہ جو علاقے سیلاب کی لپیٹ میں ہیں اُنھیں ’آفت زدہ‘ قرار دیا جا چکا ہے۔

’’جہاں سیلاب ہے اُس سارے علاقے کو آفت زدہ قرار دے دیا گیا ہے، جب آپ اپنے گھروں کو دوبارہ تعمیر کریں گے میں بھی اُس میں اپنا حصہ ڈالوں گا۔‘‘

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے ترجمان احمد کمال نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں بتایا کہ سیلاب سے متاثرہ افراد کی تعداد 20 لاکھ سے تجاوز کر گئی ہے۔

’’280 ہلاکتیں ہوئی ہیں، 506 زخمی ہیں۔ 43 ہزار سے زائد گھر تباہ ہوئے ہیں اور 3062 دیہات متاثر ہوئے ہیں۔‘‘

احمد کمال نے بتایا کہ 14 لاکھ ایکڑ سے زائد رقبے پر کھڑی فصلیں بھی زیر آب آئی ہیں۔

ابتدائی اندازوں کے مطابق سب سے زیادہ نقصان چاول اور کپاس کی فصلوں کو پہنچا۔

وزیراعظم نواز شریف نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے دورے کے موقع پر ہفتہ کو ایک مرتبہ پھر کہا کہ حکومت لوگوں کی بحالی کے لیے ہر ممکن معاونت کرے گی۔

’’جن کے گھروں کو نقصان پہنچا ہے یا تباہ ہوئے۔ وہ تمام لوگ جن کی فصلیں تباہ ہوئی ہیں جن کے مال مویشی تباہ ہوئے ہیں، حکومت ہر طرح سے آپ کی اُمیدوں کے عین مطابق آپ کی مدد کرے گی‘‘۔

سیلاب کا ریلہ ملتان کی حدود سے گزر رہا ہے، شہر کو بچانے کے لیے شیر شاہ بند پر شگاف ڈالا گیا جس سے ملتان اور مظفر گڑھ کے کئی دیہات زیر آب آ گئے۔

ملتان میں زیر آب علاقے کا فضائی منظر

ملتان میں زیر آب علاقے کا فضائی منظر

محکمہ موسمیات کے مطابق سیلابی ریلا اب صوبہ سندھ کی جانب بڑھ رہا ہے۔ جہاں نشیبی علاقوں میں رہنے والوں سے محفوظ مقامات پر منتقل ہونے کی اپیل کی جا رہی ہیں۔

اُدھر ہفتہ کو بھی سیلاب میں پھنسے علاقوں سے فوج کی مدد سے لوگوں کی محفوظ مقامات پر منتقلی جاری رہی۔ فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ’آئی ایس پی آر‘ کے ایک بیان کے مطابق ملتان، مظفر گڑھ اور جھنگ میں سات ہیلی کاپٹروں اور 335 کشتیوں کی مدد سے امدادی کارروائیاں جاری ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق سیلاب زدہ علاقوں میں 730 سے زائد طبی کیمپ جب کہ 1400 سے زائد امدادی کیمپ بنائے گئے۔

XS
SM
MD
LG