رسائی کے لنکس

سیلاب متاثرین کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی سرگرمیوں کا آغاز

  • محمد مہدی

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

ملک کے جنوبی صوبے سندھ میں مون سون بارشیں مسلسل جاری ہیں جس سے مزید علاقے زیر آب آگئے ہیں۔ آفات سے نمٹنے کے صوبائی ادارے کے اعداد شمار کے مطابق بارشوں اور سیلاب سے اب تک 200 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں 46 خواتین اور 31 بچے شامل ہیں۔

بارشوں کے باعث سیلاب سے متاثرہ 50 لاکھ افراد کے لیے صدر آصف علی زرداری کی بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کے جواب میں اقوام متحدہ نے اپنی امدادی سرگرمیاں شروع کر دی ہیں۔ صدر زرداری کی اپیل کے بعد پاکستان کا دورہ کرنے والے اقوام متحدہ کے ایک اعلیٰ عہدیدار جان جِنگ نے ہفتہ کو چیف سیکرٹری سندھ کے ہمراہ ایک نیوز کانفرنس میں بتایا کہ عالمی تنظیم پاکستانی اداروں کے ساتھ مل کر متاثرہ افراد تک ہنگامی امداد کی فراہمی میں تیزی لائے گی۔

’’عالمی ادارہ برائے خوراک نے 71 ہزار خاندانوں کے لیے کھانے پینے کی اشیاء روانہ کر دی ہیں اور تین اضلاع میں خوراک کی تقسیم اتوار سے شروع کر دی جائے گی‘‘۔ اُنھوں نے بتایا کہ اقوام متحدہ کے دیگر ادارے بھی امدادی سامان سندھ بھجوا رہے ہیں ۔

جان جِنگ

جان جِنگ

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے این ڈی ایم کےچیئرمین ظفر اقبال قادر نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ اقوام متحدہ کے پاکستان میں اعلیٰ عہدیدار جمعہ سے سندھ کے متاثرہ علاقوں کا دو روزہ دورہ کر کے متاثرین کی ضروریات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

صدر آصف علی زرداری نے جمعرات کو جنوبی پاکستان میں مون سون بارشوں اور سیلاب سے متاثر ہونے والے پچاس لاکھ افراد کے لیے بین الاقوامی برادری سے امداد کی اپیل کی تھی۔

صوبہ سندھ میں غیر معمولی بارشوں سے لگ بھگ 64 ہزار مال مویشی سیلابی پانی میں بہہ کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق 40 لاکھ ایکڑ رقبہ سیلابی پانی میں ڈوبا ہوا ہے جب کہ 25 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی نقد آور فصلیں تباہ ہوچکی ہیں۔

این ڈی ایم اے کے چیئرمین ظفر اقبال قادر کا کہنا ہے کہ مسلسل بارشوں سے حالات بد سے بدتر ہوتے جا رہے ہیں کیوں کہ نکاسی آب نا ہونے کی وجہ سے متاثرہ علاقوں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ متاثرہ علاقوں میں فوری طور پرخوراک اور خیموں کی فراہمی کے علاوہ پانی کو صاف کرنے والے آلات اور جراثیم کش ادویات کی ضرورت ہے۔

صدر آصف علی زداری نے بین الاقوامی برادری کے علاوہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں سے بھی سیلاب زدگان کے لیے امداد کی اپیل کی ہے۔

XS
SM
MD
LG