رسائی کے لنکس

بارشوں اور سیلاب سے ہلاکتوں کی تعداد 183 ہو گئی

  • یاسر منصوری

(فائل فوٹو)

(فائل فوٹو)

محکمہ موسمیات کے مطابق سیلابی ریلے کی وجہ سے گدو اور سکھر میں دریا کے اطراف میں درجنوں دیہات متاثر ہوئے، اور کوٹری میں بھی دیہات زیرِ آب آ سکتے ہیں۔

پاکستان میں محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں اونچے درجے کے سیلاب کا سبب بننے والا ریلہ گدو اور سکھر سے آگے بڑھ چکا ہے اور ضلع کوٹری کی حدود میں اس کی شدت میں بتدریج کمی متوقع ہے۔

جب کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق حالیہ بارشوں اور سیلاب سے ملک بھر میں ہلاکتوں کی تعداد 183 ہو گئی ہے اور 12 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں۔ نصف سے زائد متاثرین کا تعلق صوبہ پنجاب سے ہے۔

اُدھر محکمہ موسمیات کے سیلاب کی پیشگی اطلاع دینے والے شعبے ’فلڈ فورکاسٹنگ ڈویژن‘ کے سربراہ محمد ریاض نے پیر کے روز بتایا کہ سیلابی ریلے کی وجہ سے گدو اور سکھر میں دریا کے اطراف میں درجنوں دیہات متاثر ہوئے، اور کوٹری میں بھی دیہات زیرِ آب آ سکتے ہیں۔

’’کوٹری کے مقام پر دریائے سندھ میں نچلے سے درمیانے درجے کا سیلاب متوقع ہے ... اور یہاں بھی کچے کے علاقے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔‘‘

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے ’این ڈی ایم اے‘ کے جاری کردہ تازہ اعداد و شمار کے مطابق جولائی کے اواخر میں شروع ہونے والی مون سون بارشوں اور سیلاب سے اب تک 4,939 دیہات متاثر ہو چکے ہیں۔

بارشوں اور سیلاب سے لگ بھگ 52,598 مکانات منہدم یا اُنھیں جزوی نقصان پہنچا ہے جب کہ 10 لاکھ ایکڑ رقبے پر کھڑی فصلیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

صوبائی حکومتوں نے متاثرین کے لیے 486 امدادی کیمپ بھی قائم کر رکھے ہیں جہاں 37,873 سے زائد افراد مقیم ہیں۔ متاثرین میں خیمے، کمبل اور اشیاء خورد و نوش بھی تقسیم کی جا رہی ہیں۔

محکمہ موسمیات نے مون سون بارشوں کا سلسلہ آئندہ ماہ کے وسط تک جاری رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔
XS
SM
MD
LG