رسائی کے لنکس

کشمیر میں سیلاب سے 25 لاکھ افراد متاثر


سری نگر کی ایک سڑک کا منظر

سری نگر کی ایک سڑک کا منظر

پاکستانی اور بھارتی فوجی دستوں اور امدادی اہلکاروں نے پانی میں پھنسے ڈھائی سے تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

بین الاقوامی ذرائع ابلاغ اور امدادی اداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ بارشوں اور سیلاب کے نتیجے میں وادیٔ کشمیر کے دونوں حصوں میں 25 لاکھ افراد متاثر ہوئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ رواں سال مون سون کی طوفانی بارشوں کے سبب پاکستان اور بھارت کے درمیان منقسم کشمیر کو گزشتہ 100 برسوں کے بدترین سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے جس میں اب تک دونوں جانب کے لگ بھگ 300 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

گزشتہ دو روز کے دوران وادی کے متاثرہ علاقوں سے سیلابی پانی اترنا شروع ہوا ہے لیکن حکام کا کہنا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے سے زائد عرصے سے کھڑے پانی میں تعفن اور جراثیم پیدا ہورہے ہیں جس کے باعث ان علاقوں میں متعدی امراض پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

مغربی ذرائع ابلاغ کا کہناہے کہ سیلاب سے متاثرہ علاقوں میں اسپتال اور طبی مراکز بھی پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور طبی امداد کے لیے قائم کیے جانےو الے عارضی مراکز میں ڈاکٹروں کو دوائوں اور طبی آلات کی کمی کا سامنا ہے۔

وادیٔ کشمیر سے گزرنے والے دریائے جہلم میں گزشتہ ہفتے آنے والے طغیانی کے بعد سے جاری امدادی سرگرمیوں کے دوران پاکستانی اور بھارتی فوجی دستوں اور امدادی اہلکاروں نے پانی میں پھنسے ڈھائی سے تین لاکھ افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچانے کا دعویٰ کیا ہے۔

سیلابی ریلوں کے باعث تباہ ہونے والے پلوں اور سڑکوں کی بحالی کا کام بھی جزوی طور پر جاری ہے اور کئی علاقوں تک امدادی اور انتظامی اہلکاروں کی رسائی بحال ہوگئی ہے۔

سیلاب سے سب سے زیادہ متاثر بھارتی کشمیر کا صدر مقام سری نگر ہوا ہے جہاں کئی سڑکیں اور علاقے ایک ہفتہ گزرنے کے بعد بھی بدستور زیرِ آب ہیں۔

حکام کاکہنا ہے کہ 10 لاکھ آبادی کے اس شہر میں اب بھی 75 ہزار سے زائد افراد کے گھر پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں۔

XS
SM
MD
LG