رسائی کے لنکس

یورپ میں سیلاب کے باعث سات افراد ہلاک


جرمنی میں سیلاب سے تباہی کا ایک منظر

جرمنی میں سیلاب سے تباہی کا ایک منظر

جنوبی جرمنی میں سیلاب سے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ آسٹریا کی سرحد تک کے علاقے متاثر ہیں۔

یورپ میں موسلادھار بارشوں سے دریاوں میں پانی سطح بلند ہونے سے مختلف ملکوں میں سیلابی صورتحال پیدا ہو گئی ہے اور اس دوران سات افراد ہلاک ہو گئے۔

دریائے سین میں پانی کی سطح گزشتہ تیس سالوں سے زائد عرصے میں پہلی بار بلند ترین سطح پر پہنچنے کے بعد پانی کناروں سے باہر بہتے ہوئے رہائشی علاقوں میں داخل ہو گیا جس کی وجہ سے مشہور زمانہ لوخ عجائب گھر کو جمعہ کے روز کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔

دریا کے دوسرے کنارے پر واقع اورسے عجائب گھر بھی بند رہے گا۔ فرانس میں سیلاب سے دو افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

نمور شہر میں تین ہزار افراد کو محفوظ مقامات پر منتقل کرنا پڑا ہے کیونکہ یہاں سے گزرنے والے دریا میں بھی سیلابی صورتحال ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اتنی بلند سطح 1910ء کے بعد پہلی مرتبہ دیکھنے میں آئی ہے۔

فرانس کے صدر فرانسواں اولاند نے ہنگامی حالت نافذ کرتے ہوئے عزم ظاہر کیا ہے کہ وہ سیلاب کے شکار تمام علاقوں کے لیے فنڈز فراہم کریں گے۔

جنوبی جرمنی میں سیلاب سے پانچ افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ آسٹریا کی سرحد تک کے علاقے متاثر ہیں۔

جرمنی کی چانسلر آنگیلا مرخیل نے متاثرہ علاقوں میں امداد میں معاونت کا عزم ظاہر کیا ہے۔

اختتام ہفتہ کے لیے بھی مزید بارشوں کی پیش گوئی کی گئی ہے جو کہ وسطی یورپ میں فرانس سے لے کر یوکرین تک کے لیے ہے۔ بعض علاقوں میں چند ہی گھنٹوں میں پانچ سینٹی میٹرز تک بارش ریکارڈ کی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG