رسائی کے لنکس

بتایا جاتا ہے کہ ہلاک شدگان میں دولہہ بھی شامل ہے، جب کہ سیلابی ریلے میں ڈوبتے ہوئے افراد بچاتے ہوئے فوج کا ایک اہلکار بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا

اتوار کے دِن مظفر گڑھ کے قریب، دریاے چناب کے سیلابی بھنور میں پھنسنے والی ایک کشتی ڈوبنے کے نتیجے میں 17 افراد ہلاک ہوئے۔

بتایا جاتا ہے کہ کشتی پر 24 سے زائد افراد سوار تھے، جو شادی کی ایک تقریب کے لیے ایک قریبی علاقے کی طرف جارہے تھے کہ سیلابی ریلے کا شکار ہوگئے۔

موصولہ رپورٹوں کے مطابق، ہلاک ہونے والوں میں دولہہ بھی شامل ہے۔

امدادی کارکنوں نے اتوار کی شام تک تقریباً 12 افراد کی لاشیں نکال لی تھیں جب کہ پانچ کو زندہ بچا لیا گیا اور دیگر کی تلاش جاری ہے۔

سیلابی ریلے میں ڈوبتے ہوئے افراد بچاتے ہوئے فوج کا ایک اہلکار بھی اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔

بتایا جاتا ہے کہ اندھیرے کے باعث، امدادی کام کو صبح تک مؤخر کردیا گیا ہے، جب تازہ دم امدادی دستے تلاش کا کام پھر سے شروع کریں گے۔ امدادی کارروائی میں ریسکیو عملے کے علاوہ پاکستان فوج کے ماہر غوطہ خور بھی حصہ لے رہے ہیں۔

آفات سے نمٹنے کے قومی ادارے کے مطابق سیلاب سے اب تک 280 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جب کہ تقریباً دو لاکھ 76 ہزار سے زائد افراد کو سیلابی علاقے سے محفوظ مقامات پر منتقل کیا جاچکا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں پاکستانی فوج ہیلی کاپٹروں اور کشتیوں کی مدد سے امدادی کارروائیوں میں حصہ لے رہی ہے جب کہ فضا سے متاثرہ علاقوں میں خوراک بھی گرائی جا رہی ہے۔

سیلابی ریلہ پنجند ہیڈورکس میں داخل ہو چکا ہے جہاں حکام کے بقول اونچے درجے کا سیلاب ہے۔ یہ وہ مقام ہے جہاں پاکستان کے پانچ دریا آکر ملتے ہیں۔

حکام کے مطابق، مظفر گڑھ، بہاولپور، ملتان اور شجاع آباد میں امدادی کارروائی جاری ہے، اور اب تک 37000افراد کو محفوظ مقامات پر پہنچایا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG