رسائی کے لنکس

سیلاب زدگان کی امداد جاری رکھنے کا عزم

  • حسن سید

سفیر این پیٹرسن نے امریکہ کی طرف سے جاری امدادی کاموں کی تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا

سفیر این پیٹرسن نے امریکہ کی طرف سے جاری امدادی کاموں کی تفصیلات سے صحافیوں کو آگاہ کیا

امدادی کارروائیوں میں اس وقت 18 امریکی فوجی و سول ہیلی کاپٹرحصہ لے رہے ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں آٹھ مزید ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچیں گے۔ پاکستان بھر میں بین الااقوامی امداد کی ترسیل کے لیے امریکہ نے افغانستان سے C 130 طیاروں کی مدد بھی فراہم کی ہے اور منگل کے روز دو طیاروں نے پچاس ہزار ٹن سے زائد امداد متاثرین کو فراہم کی۔ امریکہ نے عارضی گھروں کی تعمیر کے لیے پلاسٹک شیٹیںفراہم کی ہیں جن سے تقریبا ایک لاکھ 12 ہزار افراد کو چھت میسر آ سکے گی ۔

امریکی سفیر این پیٹرسن نےامدادی کاموں میں مصروف دوسرے امریکی اداروں کے عہدے داروں کے ساتھ منگل کو مشترکہ نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں سیلاب سے وسیع پیمانے پر ہونے والی تباہی کے فوراً بعد اُن کے ملک نے امدادی کاموں میں پاکستانی حکام کی معاونت کے لیے نہ صرف ہیلی کاپٹر بھیجے بلکہ اب تک سات کروڑ ساٹھ لاکھ ڈالر کی مالی امداد کا اعلان بھی کیا جا چکا ہے۔

اس موقع پر بتایا گیا کہ سیلاب زدہ علاقوں میں امریکی ہیلی کاپٹروں کی مدد سے ساڑھے چار ہزار سے زائد متاثرین کومحفوظ مقامات پر منتقل کرنے کے علاوہ پانچ لاکھ پاؤنڈ سے زائد وزنی امدادی سامان تقسیم کیا جا چکا ہے۔

این پیٹر سن کے بقول امریکہ کی طرف سے اپنےقریبی اتحادی ملک پاکستان کو اب تک دی جانے والی یہ امداد ایک طویل سلسلے کا آغاز ہے۔

’’ہم نے اس مشن کو اپنی اولین ترجیح بنا رکھا ہے تاکہ زندگیوں کا تحفط کیا جائے اور پاکستان کو مستحکم بنایا جائے‘‘ ۔

امریکی سفیر نے بتایا کہ وزیر خارجہ ہلری کلنٹن جمعرات کو نیو یارک میں ہونے والے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے خصوصی اجلاس میں دنیا پر یہ زور دیں گی کہ وہ پاکستان کی ضروریات کا احساس کرتے ہوئے جس قدر ہو سکے اس کی مدد کرے۔

انھوں نے بتایا کہ امریکہ کا نجی شعبہ اوروہاں آباد پاکستانی برادری بھی سیلاب زدگان کے لیے امداد اکھٹی کرنے کے لیے متحرک ہو چکے ہیں۔

امدادی کارروائیوں میں اس وقت 18 امریکی فوجی و سول ہیلی کاپٹرحصہ لے رہے ہیں جبکہ آئندہ چند روز میں آٹھ مزید ہیلی کاپٹر پاکستان پہنچیں گے۔ پاکستان بھر میں بین الااقوامی امداد کی ترسیل کے لیے امریکہ نے افغانستان سے C 130 طیاروں کی مدد بھی فراہم کی ہے اور منگل کے روز دو طیاروں نے پچاس ہزار ٹن سے زائد امداد متاثرین کو فراہم کی۔ امریکہ نے عارضی گھروں کی تعمیر کے لیے پلاسٹک شیٹیںفراہم کی ہیں جن سے تقریبا ایک لاکھ 12 ہزار افراد کو چھت میسر آ سکے گی ۔

امریکی ادارے یوایس ایڈ کے نمائندے باب ولسن کا کہنا تھا کہ ان کے ادارے کی طرف سے جو سماجی ترقی کے منصوبے پہلی ہی جاری تھے انھیں سیلاب کے تناظر میں توسیع دی جائے گی اور اس ضمن میں مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر متاثرین کے لیے روز گار کے مواقع پیدا کرنے پر خاص توجہ دی جائے گی ۔

عہدیداروں کا کہنا تھا کہ امریکہ کی اولین ترجیح دوسرے معاون اداروں اور مقامی تنظیموں کے ساتھ مل کر متاثرہ علاقوں میں ملیریا ، ہیضہ اور سانس کی بیماریوں سمیت صحت کے دوسرے مسائل کو روکنا ہے اور اس ضمن میں 15 ڈائریا کنٹرول مراکز پہلےہی قائم کئے جا چکے ہیں۔

XS
SM
MD
LG