رسائی کے لنکس

اُڑنے والی گاڑی، اب خواب نہیں


’ٹرانسیشن‘ کی قیمت کا اندازہ تقریباً تین لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔ مگر ٹیرافوگیا کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس گاڑی کے لیے پہلے ہی ایک سو آرڈرز آ چکے ہیں۔

کیا آپ ٹریفک جیم میں بیٹھ بیٹھ کر اُکتا گئے ہیں۔ تو پھر خوش ہو جائیے، ٹیرافوگیا نامی کمپنی کا کہنا ہے کہ اگلے دو برسوں میں اڑنے والی گاڑیاں فروخت کے لیے پیش کر دی جائیں گی۔

ٹیرافوگیا کمپنی کا ارادہ ہے کہ ’ٹرانسیشن‘ نامی اس گاڑی پر دوہرے ہو جانے والے پر لگائے جائیں گے اور اس گاڑی کو چلانے کے لیے اسے ائیر پورٹ سے ٹیک آف کرنا ضروری ہوگا۔

ٹیرافوگیا کمپنی کے سی او اے کارل ڈائیٹرچ کہتے ہیں کہ، ’انسانیت پر اڑنے والی گاڑی کے اچھے اثرات مرتب ہوں گے جبکہ ایک اندازے کے مطابق اڑنے والی گاڑیوں سے سالانہ 800 ارب ڈالر کی آمدن ہوگی۔ ناسا کے اندازے کے مطابق اڑنے والی گاڑیوں سے سالانہ ایک ٹریلین ڈالر کا فائدہ ہوگا۔‘

’ٹرانسیشن‘ کی قیمت کا اندازہ تقریباً تین لاکھ ڈالر لگایا گیا ہے۔ مگر کمپنی کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اس گاڑی کے لیے پہلے ہی ایک سو آرڈرز آ چکے ہیں۔

اس گاڑی میں عام گاڑیوں والا انجن ہی استعمال کیا جائے گا اور اس میں گاڑی میں بھرنے والا ایندھن ہی استعمال کیا جائے گا۔

اس گاڑی کو چلانے کے لیے ڈرائیور کو نہ صرف ڈرائیونگ لائسنس درکار ہوگا بلکہ اسے سپورٹ پائیلٹ سرٹیفیکیٹ بھی درکار ہوگا۔
XS
SM
MD
LG