رسائی کے لنکس

صدر شی جنپنگ نے کانفرنس سے قبل کہا کہ ’’ہم شمالی کوریا اور دیگر علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال اور رابطہ بڑھانا چاہتے ہیں۔

امریکہ کے صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ برسلز سمیت دنیا کے مختلف حصوں میں حملوں کے بعد ’’ناصرف جوہری معاملے بلکہ عمومی طور پر دہشت گردی کی عفریت کو ختم کرنے کی فوری توجہ کی ضرورت ہے۔‘‘

انہوں نے یہ بات واشنگٹن میں جوہری کانفرنس کے موقع پر کہی۔

صدر اوباما کی چوتھی اور آخری جوہری کانفرنس ایسے وقت ہو رہی ہے جب داعش کے شدت پسندوں کی طرف سے تابکار بم چلانے کے امکان اور شمالی کوریا کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کی تیاری سے متعلق تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جمعرات کو وائٹ ہاؤس میں عشائیے میں شریک کچھ عالمی رہنماؤں کا تعلق ایسے ممالک سے تھا جو براہ راست دہشت گردی سے متاثر ہوئے ہیں۔

محکمہ خارجہ میں وزارتی سطح کے اجلاس میں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے کہا کہ ایسا وقت بھی آیا ہے جب جوہری سلامتی پر پیش رفت سست تھی اور ’’اب بھی (اس سلسلے میں) بہت کچھ کرنا باقی ہے۔‘‘

’’مگر آگے کی طرف ہر قدم ہمیں خطرے سے دور لے جاتا ہے۔‘‘

جمعرات کو صدر اوباما نے دنیا کے رہنماؤں سے کئی ملاقاتیں کیں۔

انہوں نے جنوبی کوریا کی صدر پارک گیون ہئی اور وزیراعظم شینزو ایبے سے ملاقاتیں کیں۔ شنزو ایبے نے شمالی کوریا کی طرف سے جنوری میں کیے جانے والے جوہری تجربے اور فروری میں طویل فاصلے تک مار کرنے والا میزائل خلا میں بھیجنے پر بات کی۔

چین کے صدر شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات میں بھی شمالی کوریا کے میزائل تجربات پر بات کی گئی۔

صدر شی جنپنگ نے کانفرنس سے قبل کہا کہ ’’ہم شمالی کوریا اور دیگر علاقائی اور عالمی مسائل پر تبادلہ خیال اور رابطہ بڑھانا چاہتے ہیں۔

امریکہ سمجھتا ہے کہ شمالی کوریا کا حلیف چین ہتھیاروں کی تیاری پر اس کے خلاف اقوام متحدہ کی پابندیاں عائد کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔

بعد میں ہونے والے ایک اجلاس میں صدر اوباما نے دہشت گردی کے خلاف ’’یورپی برادری کو متحرک کرنے‘‘ کے لیے فرانس کے صدر فرانسوا اولاں کی تعریف کی۔

برسلز میں 22 مارچ کو ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بعد امریکہ اور دیگر عالمی طاقتیں جوہری مواد اور تنصیبات کی حفاظت کو فوری توجہ دینے کی ضرورت محسوس کر رہی ہے۔

سامنے آنے والی نئی معلومات کے مطابق اس حملے میں ملوث دو بھائی بیلجیئن جوہری تنصیب کے متعلق معلومات اکٹھی کرنے کی منصوبے کا حصہ تھے۔

وائٹ ہاؤس میں خارجہ امور کے معاون بین روڈز نے کہا کہ ’’ہم جانتے ہیں کہ دہشت گرد تنظیمیں خواہش رکھتی ہیں کہ جوہری خام مواد اور جوہری ہتھیاروں تک رسائی پائیں۔‘‘

عالمی طاقتیں پاکستان میں جوہری مواد اور تنصیبات کے تحفظ کے بارے میں تشویش کا اظہار کر رہی ہیں جہاں اتوار کو لاہور میں ہونے والے دہشت گرد حملے میں ستر سے زائد افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تاہم پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ اس کی جوہری تنصیبات مکمل طور پر محفوظ ہیں۔

XS
SM
MD
LG