رسائی کے لنکس

ایک دور میں صرف خوش پوش علاقوں کے رہنے والے ہی اس شوق کو ’افورڈ‘ کرسکتے تھے۔ مگر اب متوسط طبقے کے رہائشی علاقوں میں بھی کتوں کی پرورش عام بات ہوگئی ہے۔ مثلاً نارتھ ناظم آباد کے کئی بلاکس ایسے ہیں جہاں رات کا اندھیرا ہوتے ہی کتوں کا ’رت جگا‘ شروع ہوجاتا ہے۔۔۔۔۔

پاکستان، خاص کر کراچی کے نوجوانوں میں کتے پالنے کے رجحان میں بہت تیزی سے اضافہ ہو رہا ہے۔ اگرچہ گھروں میں بلی یا کتے یا کوئی اور جانور یا پرندہ پالنے کا شوق صدیوں پرانا ہے، لیکن 90 کی دہائی کے بعد سے اس میں مسلسل کمی آرہی تھی۔۔۔ جس کی بہت سی وجوہات تھیں، مثلاً جگہ کی تنگی، وقت کی کمی اور مہنگائی۔

گوکہ یہ مسائل اب بھی برقرار ہیں۔ لیکن، شوق تو پھر شوق ہے۔ ہر طرح کی تنگی کے باوجود جاری ہے۔

ایک دور میں صرف متمول علاقوں کے رہنے والے ہی اس شوق کو ’افورڈ‘ کر سکتے تھے مگر اب متوسط طبقے کے رہائشی علاقوں میں بھی کتوں کی پرورش عام بات ہوگئی ہے۔ مثلاً نارتھ ناظم آباد کے کئی بلاکس ایسے ہیں جہاں رات کا اندھیرا ہوتے ہی کتوں کا ’رت جگا‘ شروع ہوجاتا ہے جو اس بات کا ثبوت ہے کہ لوگوں میں حفاظت اور شوق دونوں کی غرض سے کتے پالے جا رہے ہیں۔

بیشتر افراد کی اس مشترکہ رائے کے باوجود کہ ’ایک اچھی نسل کے کتے کی دیکھ بھال یا اس کی پرورش پر اچھی خاصی رقم اور وقت صرف ہوجاتا ہے، نئی جنریشن اس خیال پر کاربند ہے کہ ’شوق کا کوئی مول نہیں ہوتا‘۔

نارتھ کراچی 11-اے کے ایک رہائش تابش نے وی او اے کے نمائندے کو بتایا کہ ان کے علاقے میں بھی اعلیٰ نسل کے کتوں کی تعداد آہستہ آہستہ بڑھ رہی ہے۔ بقول ان کے، ’میرے برابر والے گھر میں ایک صاحب نے جرمن شیفرڈ پالا ہوا ہے جبکہ کچھ فاصلے پر واقع ایک گھر میں انہوں نے ڈوبرمین کو بھی ’چوکیداری‘ کرتے ہوئے دیکھا ہے۔‘

کچھ نوجوانوں کا پسندیدہ شغل یہ بھی ہوگیا ہے کہ شام ہوتے ہی وہ اپنے اپنے کتے ٹہلانے نکل پڑتے ہیں۔

گلشن اقبال، گلستان جوہر اور ملیر کینٹ کے علاقوں میں یہ منظر عام ہیں۔ نوجوان ان کتوں سے مختلف کھیل کھیلتے بھی نظرآتے ہیں، جبکہ کچھ تو انہیں بھگانے اور ریس لگانے میں بھی کسی سے پیچھے نظر نہیں آتے۔

’کینیل کلب آف پاکستان‘ نوجوانوں میں اس شوق کو پروان چڑھانے میں پیش پیش ہے اسی لئے مختلف مواقع پر ڈاگ شوز کا اہتمام کرتا ہے۔ رواں ہفتے ڈیفنس کلب میں ’کے سی پی آل بریڈ ڈاگ شو‘ ہوا، جس کے تحت مختلف کیٹیگریز جیتے والے کتوں کو سرٹیفکیٹس اور انعامات دیئے گئے۔

کلب کے چیئرمین، سید تصویر حسین کے مطابق، ’شو میں 20سے زائد اعلیٰ نسل کے کتوں نے حصہ لیا۔ ان میں جرمن شیفرڈ، منی ایچر پن شر، سینٹ برنارڈ، بل ڈوگ، ڈوبرمین، راٹ وہلیئر، امریکن اسٹاف شیئر ٹیرئیر، اسٹافورڈ شیئر بل ٹیرئیر، ڈش شنڈ، سائبرین ہسکی، گولڈن ری ٹرائیور ، لیبریڈر ری ٹرائیور، جاپانی چن، فرنچ بل ڈاگ، پگ، شن زو اور پڈل شامل ہیں۔‘

XS
SM
MD
LG