رسائی کے لنکس

دنیا بھر میں خوردنی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ

  • واشنگٹن

خوردنی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ

خوردنی اجناس کی قیمتوں میں اضافہ

عالمی ادارے کا کہناہے کہ جولائی کے دوران خوراک کی قیمتوں میں 10 فی صد اضافہ ہوا اور مکئی اور سویا بین کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

عالمی بینک نے کہاہے کہ امریکہ اور مشرقی یورپ میں خشک سالی کے نتیجے میں عالمی سطح پر خوراک کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔

عالمی ادارے کا کہناہے کہ جولائی کے دوران خوراک کی قیمتوں میں 10 فی صد اضافہ ہوا اور مکئی اور سویا بین کی قیمتیں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئیں۔

امریکہ اور مشرقی یورپ میں موسم گرما کے دوران درجہ حرارت میں اضافوں سے زرعی زمین جھلس اور پودے مرجھا گئے۔

عالمی بینک نے کہا ہے کہ خوراک میں استعمال ہونے والی اجناس کی عالمی تجارت میں گذشتہ سال کے مقابلے میں جولائی میں چھ فی صد اضافہ ہوا۔

عالمی بینک نے کہاہے کہ جون اور جولائی کے عرصے میں گندم کی قیمت میں 25 فی صد اور سویابین کی قیمت 17 فی صد تک بڑھ گئی۔

جب کہ چاول کی قیمت میں چار فی صد کی کمی دیکھی گئی۔

عالمی بینک کے صدر جم ینگ کم نے کہاہے کہ خوراک کی قیمتوں میں اضافے نے بالخصوص افریقہ اور مشرق وسطی کے لاکھوں لوگوں کی صحت اور تندرستی سے متعلق خدشات پیدا کردیے ہیں۔

ورلڈ بینک کا کہناہے کہ سب صحارہ افریقہ میں واقع ممالک کو خاص طور پر خطرات لاحق ہیں جہاں موزمبیق میں چاول کی قیمتیں 113 فی اور سوڈان اور جنوبی سوڈان میں جوار کے بھاؤ نمایاں طورپر بڑھ گئے ہیں۔

کم نے کہاہے کہ عالمی بینک اس سال مختلف زرعی پروگراموں پر دنیا بھر میں 9 ارب ڈالر صرف کررہاہے۔
XS
SM
MD
LG