رسائی کے لنکس

ہیٹی: متاثرہ افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا


ہیٹی: متاثرہ افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا

ہیٹی: متاثرہ افراد کو خوراک کی قلت کا سامنا


ہیٹی کے دارالحکومت پورٹ او پرنس میں عارضی خیموں میں رہنے والوں کا کہنا ہے کہ زلزلے کے تین ہفتوں کے بعد اب حالات میں بہتری آئی ہے لیکن خوراک اور امداد کی کمی کی وجہ سے انہیں ابھی بھی مشکلات کا سامنا ہے۔

پورٹ او پرنس کے ایک تباہ شدہ سکول کے گراؤنڈ پر بنے ہوئے ایک کیمپ میں نو ہزار متاثرہ افراد گھریلو ساختہ خیموں میں رہ رہے ہیں۔ کیمپ کے کچھ رہائشی ان لوگوں کو خورک فروخت کررہے ہیں جو اسے خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں۔

بین الاقوامی امداد پہنچے کی وجہ سے انہیں پینے کا پانی میسر ہے لیکن اسے حاصل کرنے میں بعض اوقات انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

Rosemonde Desmesier کو بین الاقوامی امدادی تنظیموں کی جانب سے مفت خوراک کی تقسیم کے دوران یہی مسئلہ پیش آیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ جب وہ خوراک لے کر آتے ہیں تو ہمیں کچھ نہیں ملتا۔ جو لوگ خوراک تقسیم کرنے والوں تک پہنچ جاتے ہیں ، وہ ہماری راہ میں رکاوٹ بن جاتے ہیں۔ مرد ہر چیز حاصل کرلیتے ہیں ، لیکن عورتوں کو کچھ نہیں ملتا۔

ان دنوں ہیٹی میں موسم خشک ہے لیکن چند ماہ بعد بارشوں کاسلسلہ شروع ہوجائے گا اور اس خیمہ بستی کے لوگوں کو بستر کی چادروں سے بنے ہوئے اپنے خیموں کے بارے میں فکر لاحق ہے۔

پورٹ او پرنس کے ایک ایلمنٹری سکول کے ایک ٹیچر ایلکس اوشن بھی اسی فکر میں مبتلا ہیں، جن کا اسکول زلزلے کے بعد سے بند ہے۔

انہیں کیمپ میں امداد کی تقسیم کا نظام بہتر ہونے اور تعمیر نو کے لیے بین الاقوامی امداد کی توقع ہے ۔

وہ کہتے ہیں کہ ہیٹی کا مستقبل اہم ہے۔ میری خواہش ہے کہ وہ ملک کی تعمیر نو میں ہماری مدد کریں ۔ اس وقت لوگوں کو خوراک کی ضرورت ہے۔

پورٹ او پرنس کے بوائے سکاؤٹس اس کیمپ میں مدد کے لیے پہنچ چکے ہیں لیکن وہ ضرورت مند لوگوں کی مدد کے لیے خیموں اور امدادی سامان کا انتظار کررہے ہیں ۔

توقع ہے کہ جلد ہی طبی سہولتوں سے آراستہ ایک موبائل کلینک وہاں پہنچ جائے گا۔ ایک شخص لوگوں کو بتارہا ہے کہ موبائل کلینک میں حفاظتی ٹیکے لگانے کابندوبست موجود ہوگا۔

XS
SM
MD
LG