رسائی کے لنکس

پاکستان کے فٹ بال کھلاڑی کا امریکہ میں اعزاز

  • شہناز نفیس

’وائس آف امریکہ‘ کی ’ڈیوا سروس‘ سے ایک انٹرویو میں کلیم اللہ نے بتایا کہ اُنھوں نے نہایت محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اس لیے کہ اُنھوں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک ایسے کھلاڑی بنیں گے جب آئندہ لوگ اُن پر فخر کر سکیں اور ملک کا نام روشن ہو

فٹ بال کے ایک پاکستانی کھلاڑی کو یہاں امریکہ کی ریاست کیلی فورنیا میں ایک کلب کی طرف سے کھلنے کا اعزاز حاصل ہوا ہے۔

کلیم اللہ کو، جن کا تعلق صوبہٴبلوچستان سے ہے، بعض یورپی کلبوں سے بھی پیش کش کی گئی ہے۔ ایسے میں جب کہ پاکستان میں فٹ بال کا کھیل انحطاط کا شکار ہے، کیلم اللہ کی یہ کامیابی یقیناً امید کی ایک کرن ہے۔

کیلم اللہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کی ’ڈیوا سروس‘ سے ایک انٹرویو میں بتایا کہ اُنھوں نے نہایت محنت سے یہ مقام حاصل کیا ہے۔ اس لیے کہ اُنھوں نے یہ تہیہ کر لیا تھا کہ وہ پاکستان کے ایک ایسے کھلاڑی بنیں گے جب آئندہ لوگ اُن پر فخر کر سکیں اور ملک کا نام روشن ہو۔

کلیم اللہ نے فٹ بال کھیلنے کا آغاز 14 سال کی عمر میں کیا جب اُنھوں نے پاکستان کی قومی فٹ بال ٹیم کے ایک رکن کے طور پر ایران کا دورہ کیا، جس کے بعد اُنھوں نے ایران اور وسط ایشیائی ممالک کے کلبز کے لیے کھیلا۔ اِس وقت وہ کیلی فورنیا کے ایک سوکر کلب کے لیے کھیل رہے ہیں، جب کہ یورپین سوکر کلب کی جانب سے بھی کلیم اللہ کو کھیلنے کی پیش کش ہو چکی ہے۔

وہ کہتے ہیں کہ اُنھیں یہاں تک پہنچنے میں کئی مشکلات کا سامنا رہا۔ لیکن، اُنھوں نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔

اُنھوں نے کہا کہ میں نے کبھی محنت نہیں چھوڑی اور میں نے تہیہ کر لیا تھا کہ میں پاکستان کا ایک ایسا کھلاڑی بنوں گا جس پر لوگ فخر کر سکیں اور میں پاکستان کا نام دنیا میں روشن کر سکوں۔

پاکستان میں فٹ بال کے مستقبل کے بارے میں اُن کا کہنا تھا کہ پاکستان میں پوری توجہ کرکٹ کو دی جاتی ہے، جس کی وجہ سے دیگر کھیل مثلاً ہاکی اور فٹ بال، پیچھے چلے گئے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ اگر اس وقت بھی فٹ بال پر توجہ دی گئی اور اسکولوں کی سطح پر گراؤنڈز بنائے گئے اور دیگر سہولتیں دی گئیں تو 10 برس کے اندر ایشیا کی سطح پر پاکستان کی ایک بہترین فٹ بال ٹیم سامنے آ سکتی ہے۔

کلیم اللہ کہتے ہیں کہ کسی بھی منزل کا حصول ناممکن نہیں ہے، بشرطیکہ محنت کی جائے۔

وہ کہتے ہیں کہ یہ سب محنت کا ہی نتیجہ ہے کہ آج ایک پاکستانی کھلاڑی امریکہ میں کھیل رہا ہے۔ یہ میرے اپنے لیے اور پاکستان کے لیے اور ساتھ ہی اُن تمام نوجوانوں کے لیے بھی جو فٹ بال میں آنا چاہتے ہیں ایک فخر کی بات ہے۔

مسابقت کے اس دور میں کلیم اللہ کا عزم اور اُن کی کامیابی یقیناً ایک مثالی حیثیت رکھتی ہے اور اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ پاکستان میں ’ٹیلنٹ‘ کی کمی نہیں اور ہم کہہ سکتے ہیں کہ ، ’ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی‘۔

تفصیلی انٹرویو سننے کے لیے آڈیو رپورٹ پر کلک کیجئیے:

XS
SM
MD
LG