رسائی کے لنکس

وائٹ ہاؤس ترجمان جے کارنی نے کہا ہے کہ صدر کو توقع ہے کہ اخراجات میں کٹوتی کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے مابین سمجھوتا طے پا جائے گا

قانون سازوں سے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے، امریکی صدر براک اوباما اس ہفتے لگاتار تیسرے روز بھی کانگریس گئے، جو ایک غیر معمولی بات ہے، جِس کا مقصد حکومتی اخراجات، ٹیکسز اور قومی قرضہ جات کے معاملات پر اِس وقت ملک میں جاری تصفیہ طلب مباحثے کا حل تلاش کرنا ہے۔

اپنی پہلی مدت صدارت کے دوران مسٹر اوباما قانون سازوں کے ساتھ شاذ و نادر ہی پالیسی معاملات پر براہِ راست بات چیت کی تھی۔ اس کے برعکس، وہ کانگریس کے قائدین سے بات چیت کرنا یا پھر صدارتی انتخابی مہم کی طرز پر ملک بھر میں ہونے والی تقریبات میں شرکت کو ترجیح دیتے تھے۔

لیکن، گذشتہ ہفتے اُنھوں نے واشنگٹن ہوٹل میں منعقد ہونے والے ایک بااہتمام عشائیے میں سینیٹ میں ریپبلیکن پارٹی کے 12 ارکان سے ملاقات کی تھی؛ اور وائٹ ہاؤس میں ایوان نمائندگان میں ریپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے کلیدی سیاسی مخالف پال رائن کو ظہرانے پر مدعو کیا۔

کچھ سیاسی پنڈتوں نے اِسے خوش کرنے کی ایک چال قرار دیا ہے، ایسے میں جب حکومتی مالیات کے بارے میں ایک وسیع تر سمجھوتے تک پہنچنے کے لیےمسٹر اوباما ماضی کی اپنی ناکام کوششوں کو از سر نو شروع کر رہے ہیں۔

منگل کے روز، صدر، جن کا تعلق ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے، سینیٹ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے اکثریتی کاکس سے ملاقات کرنے والے ہیں، جس کے بعد بدھ کو وہ ایوان کے ریپبلکن نمائندوں کے ساتھ بات چیت کریں گے، جب کہ جمعرات کو وہ ایوان کے ڈیموکریٹ اور سینیٹ کے ریپبلیکنز کے سے ملیں گے۔

وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے کہا کہ صدر کو توقع ہے کہ اخراجات میں کٹوتی کے معاملے پر دونوں جماعتوں کے مابین سمجھوتا طے پا جائے گا۔
XS
SM
MD
LG