رسائی کے لنکس

ایک اندازے کے مطابق، امریکہ میں ذیابطس میں مبتلا 35فی صد افراد کسی نہ کسی طور پر گردوں کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں، جبکہ گُردوں کے فیل ہونے یا ڈائلیسز کی ایک بڑی وجہ بھی ذیابیطس کا مرض بتایا جاتا ہے

ماہرین ِصحت ہمیشہ ہی ذیابیطس کے ٹائپ ٹو میں مبتلا افراد کو صحتمند خوراک، متحرک رہنے اور وزن میں کمی کے مشورے دیتے آئے ہیں۔

ایک نئی تحقیق کے مطابق، ان اقدامات سے گُردوں کی بیماریوں سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

ایک اندازے کے مطابق، امریکہ میں ذیابطس میں مبتلا 35 فی صد افراد کسی نہ کسی طور پر گردوں کی بیماری میں بھی مبتلا ہیں، جبکہ گُردوں کے فیل ہونے یا ڈائلیسز کی ایک بڑی وجہ بھی ذیابیطس کا مرض بتایا جاتا ہے۔

امریکہ میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق بتاتی ہے کہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا افراد کے روزمرہ معمولات میں چند تبدیلیاں کرکے گردوں کی بیماری سے بچاؤ ممکن ہے۔

اس تحقیق میں امریکہ میں ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلا 5 ہزار ایسے افراد کو شامل کیا گیا جن کا وزن نارمل افراد کی نسبت زیادہ تھا۔ یہ تمام افراد 45 سے 76 برس کی عمر کے درمیان تھے۔ ان لوگوں کو دو گروپوں میں تقسیم کیا گیا۔

ایک گروپ کو ذیابیطس کے مرض کے خلاف سپورٹ اور معلومات فراہم کی گئیں جبکہ دوسرے گروپ کو خوراک اور ورزش کے ذریعے 7 فی صد وزن کم کرنے کا ہدف دیا گیا۔

ایک برس بعد، دونوں گروپوں کے نتائج کو اکٹھا کیا گیا۔ وزن کم کرنے والا گروپ ایک سال میں اوسطاً اپنے وزن میں 8.6 فی صد کمی لائے تھے، جبکہ دوسرے گروپ کے افراد کے وزن میں اوسطاً محض ایک فیصد کمی نوٹ کی گئی۔

اس تحقیق کے دورانیے میں جو لوگ وزن کم کرنے والے گروپ میں شامل تھے ان میں گردوں کے کسی مرض میں مبتلا ہونے کے امکانات 31 فی صد تک کم ہو گئے۔

اس تحقیق کا بنیادی خیال وزن میں کمی لا کر دل کی بیماریوں اور فالج کے حملے سے بچاؤ بھی ممکن ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ ذیابیطس کے مریضوں کو اپنی روزمرہ زندگی میں معمولی تبدیلیاں لانی چاہیئں، جیسا کہ صحت بخش خوراک اور ورزش کو یقینی بنانا چاہیئے تاکہ وہ دیگر بہت سے امراض سے بچ سکیں۔

XS
SM
MD
LG