رسائی کے لنکس

مائونٹ ورنن میں منعقدہ تقریب میں موجود 100 افراد نے اپنا دائیاں ہاتھ بلند کرتے ہوئے اپنے نئے وطن سے وفاداری کا عہد کیا۔ ایسی تقاریب سال بھر ملک کے مختلف حصوں میں منعقد ہوتی ہیں۔ امریکہ کے شہریت اور امی گریشن کے دفتر (یو ایس سی آئی ایس) کے مطابق، سنہ 2015میں تقریباً 730000 افراد شہری بنے

ریاست ورجینیا کے شہر مائونٹ ورنن میں امریکہ کے پہلے صدر کی آبائی جائیداد کے احاطے پر موجود 100 افراد نے اپنا دائیاں ہاتھ اٹھاتے ہوئے اپنے نئے وطن سے وفاداری کا عہد کیا۔ شہریت کے حصول کے عمل کا یہ آخری مرحلہ ہوتا ہےجس کی تکمیل کے لیے کئی ایک کو کافی برس انتظار کرنا پڑا۔

ماہا رفیع، جن کے آبائو اجداد کا تعلق مصر سے ہے، کہا کہ ’’میں بہت، بہت، بہت ہی خوش ہوں‘‘۔ اُنھوں نے اپنے سر پر حجاب اوڑھا ہوا تھا۔ وہ چھوٹا سا امریکی پرچم اٹھائے ہوئے تھیں، اور اُن کے لبوں پر مسکراہٹ تھی۔ اُن کے قریب ہی، اُن کا بیٹا اور بیٹی اپنےموبائل فون پر اس تقریب کے ہر لمحے کی عکس بند کررہے تھے۔ رفیع 10 برس سے اس لمحے کی منتظر تھیں۔

بقول اُن کے ’’میں سوچ بھی نہیں سکتی۔ یہ لمحہ آن پہنچا ہے جس کے لیے میں نے کافی انتظار کیا‘‘۔

وہ لوگ جو امریکہ سے باہر پیدا ہوئے، اُن کے لیے امریکی شہریت کے حصول کے عمل کی یہ تقریب آخری قدم کا درجہ رکھتی ہے۔ اس سے قبل اُنھیں گرین کارڈ ملتا ہے، جو کانگریس کی جانب سے طے کردہ ضابطوں کے مطابق چلتے ہوئے یہاں تک پہنچتے ہیں؛ جس میں انگریزی زبان میں مہارت، اور امریکی حکومت، تاریخ، ثقافت سے آگہی یقینی بنائی جاتی ہے؛ جب کہ اُن کی بایومیٹرک جانچ کا مرحلہ مکمل ہوچکا ہوتا ہے؛ اور اُنھوں نے 680 ڈالر کی فی ادا کی ہوتی ہے۔

تریپن ملکوں سے تعلق رکھنے والے اِن امیدوارں نے امریکی آئین کے تحت ملک سے وفاداری کا عہد کیا۔ بعد میں، ایک ایکٹریس مارتھا واشنگٹن کے روپ میں نمودار ہوئیں۔ مارتھا ملک کی پہلی خاتونِ اول ہوا کرتی تھیں۔ خاتون اداکار نے اس تقریب میں شریک کچھ نئے امریکیوں کو مبارک باد دیتے ہوئے چائے پیش کی۔

نئے شہری اور اُن کے احباب اس سنگ میل لمحے پر خوشی کا اظہار بغل گیر ہوکر اور بوسہ دے کر کر رہے تھے۔ وہ ایک دوسرے کی تصاویر لے رہے تھے، جب کہ منظر نامے میں ملک کے پہلے صدر جارج واشنگٹن کی تصویر آویزاں تھی؛ جو یادگار دارالحکومت کے جنوب میں واقع ہے۔

ایسی تقاریب سال بھر ملک کے مختلف حصوں میں منعقد ہوتی ہیں۔ امریکہ کے شہریت اور امی گریشن کے دفتر (یو ایس سی آئی ایس) کے مطابق، سنہ 2015میں تقریباً 730000 افراد شہری بنے۔

دفتر کے پبلک افیئرز کے اہل کار، جِم مکینی نے اِی میل کے ذریعے، وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’گذشتہ برس کے مقابلے میں، یو ایس سی آئی ایس نے شہریت کے لیے درخواست دہندگان کی تعداد میں خاصا اضافہ دیکھا گیا‘‘۔

مکینی نے اس بات پر کوئی رائے زنی نہیں کی آیا یہ اضافہ کیونکر آیا۔ یہ انتخابات کا سال ہے جب امی گریشن کا معاملہ اٹھایا گیا ہے۔

بقول اُن کے ’’ہر سال، درخواستوں کی تعداد میں کمی بیشی ہوتی رہتی ہے، ایک سال کے دوران بھی ایسا ہوتا ہے‘‘۔

حقوق اور ذمہ داریاں

اِن نئے شہریوں میں حاصل ہونے والے حقوق اور ذمہ داریوں کا احساس عیاں ہوتا ہے۔ فریڈریکا کیسر کا تعلق کینیڈا سے ہے۔

جب وہ یہاں نہیں آئی تھیں، تب بھی اُن کے ذہن میں یہاں کی سیاست میں خاصی دلچسپی تھی۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’ووٹ دینے کے قابل بننا، میری دیرینہ خواہش تھی‘‘۔

ایک امریکی حاضر سروس فوجی کی بیوی کا کہنا ہے کہ وہ صدارتی دوڑ میں شریک امیدواروں کی انتخابی مہم کا قریب سے مشاہدہ کرتی رہی ہیں اور امیداروں کے بارے میں رائے رکھتی ہیں۔

اُن کے الفاظ میں ’’پہلے ہی انتخابی معاملہ کافی دلچسپ ہو چکا ہے، اور یہ تو ابھی شروعات ہے۔ نومبر سے پہلے ابھی تو بہت کچھ ہوسکتا ہے‘‘۔

مگالیا لی ٹلو کا تعلق گوئیانا سے رہا ہے۔ اُن کے لیے حکومت کے کاروبار میں دلچسپی ہے، جو اُن کی ترجیحات میں شامل ہے، جب کہ روزگار کے بہتر مواقع حاصل کرنا چاہتی ہیں۔

اُنھوں نے کہا کہ ’’مجھے اب روزگار کے کافی مواقع مل سکیں گے۔ یہ بہت ہی اچھا پہلو ہے کہ میرے لیے اب کئی دروازے کھلیں گے‘‘۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی اور سرکاری ملازمت کے لیے امریکی شہریت لازم ہوتی ہے۔

رومیل گیاگوئے کے لیے شہریت حاصل کرنے کا مقصد سرکاری ملازمت کا حصول رہا ہے۔ وہ فلپائن میں پیدا ہوئے، جب کہ وہ ریاست فلوریڈا کے شہر میامی میں پلے بڑھے۔ وہ امریکی فوج میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ شہریت کے درخواست دہندگان میں سے زیادہ تر لوگ کو متواتر پانچ برس تک امریکہ میں سکونت اختیار کرنی پڑتی ہے؛ لیکن امریکی مسلح افواج کے ارکان اور حال ہی میں ڈسچارج ہونے والے فوج کے ارکان کو تیزی سے امریکی شہریت مل جاتی ہے۔

گیاگوئے کے لیے، فوری شہریت کا راستہ اختیار کرنا بہتر تھا۔ ملک کے لیے خدمات انجام دیتے ہوئے، وہ اپنے وطن فون کرتے رہتے ہیں۔

فوجی اہل کار نے کہا کہ ’’مجھے یوں لگتا ہے جیسے میں طویل مدت سے امریکی شہری بن چکا ہوں، لیکن اس سے یہ مرحلہ مکمل ہوتا ہے۔ فوج کی وردی میں ملبوس، اُنھوں نے کہا کہ ’’یہ عزت کی بات ہے‘‘۔

مصری امریکن رفیع مسکرا رہی ہیں اور اپنی شہریت کا سرٹیفیکٹ دکھا رہی ہیں۔۔جو اس بات کا ثبوت ہے کہ اب اُنھیں وہ سب مراعات حاصل ہوگئی ہیں جو یہاں پیدا ہونے والے کسی امریکی کو حاصل ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ یہ انتہائی خوشی کا دِن ہے۔ وہ امریکہ کے امن و امان اور ضابطوں کو اچھی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔

جب اُن سے پوچھا گیا، تو اُنھوں نے بتایا کہ ’’یہاں سبھی قانون کی پاسداری کرتے ہیں۔ سبھی قانون کی حرمت میں یقین رکھتے ہیں۔‘‘ تاہم، وہ ہر چیز کے بارے میں اچھی سوچ رکھتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG