رسائی کے لنکس

ایک ایک جھینگا صاف کرتے کرتے دن گزر جاتا ہے اور پھر بھی ایک عورت صرف تین سے چار کلو جھینگا ہی صاف کرپاتی ہے۔۔اس پر بھی اسے زیادہ سے زیادہ 100روپے ہی مل پاتے ہیں

آئیے آج آپ کو کراچی کے کچھ ایسے علاقوں کی سیر کراتے ہیں جن میں داخل ہونے سے میلوں پہلے ہی آپ کو فضاء میں ایک عجیب قسم کی ’بو‘ محسوس ہوگی۔ اور جیسے جیسے آپ قریب جائیں گے اس بو کی شدت میں اضافہ ہوتا جائے گا۔ یہ بو ویسی ہی ہے جیسے طویل عرصے تک روکے ہوئے گندے پانی سے اٹھتی ہے۔

اگر آ پ کو مچھلی بازاروں کے قریب سے گزرتے رہنے کا تجربہ ہے تو یہ بو آپ کو جانی پہچانی محسوس ہوگی۔ شاید آپ سمجھ گئے ہوں کہ ہم فشریز، کیماڑی ٹاوٴن، ریڑھی گوٹھ اور ابراہیم حیدری کی بات کر رہے ہیں۔ خاص کر کیماڑی ٹاوٴن کی، جہاں فشریز واقع ہے۔ جیسے ہی آپ پی این ایس سی پل، ٹاور کے قریب پہنچیں گے فضاء میں بکھیری یہی بو آپ کا استقبال کرے گی۔

فشریز وہ مقام ہے جہاں سورج نکلنے سے بھی پہلے جہاز نما کشتیوں سے ’منوں، ٹنوں‘ مچھلیاں، جھینگے، کیکڑے اور دیگر سمندری خوارک پہنچنا شروع ہوجاتی ہے۔ تمام شہر، پورے ملک اور دنیا کے بہت سے ممالک کو سی فورڈ یہیں سے ارسال کیاجاتا ہے۔

فشریز پر ہی جھینگے اور مچھلیاں صاف کرنے والی متعدد فیکٹریاں موجود ہیں جہاں بڑے پیمانے پر سی فوڈ آئٹم بیرون شہر یا بیرون ملک بھیجنے کے لئے پیک ہوتے ہیں جبکہ پیکنگ سے قبل مچھلیوں اور جھینگوں کو دھویا جاتا ہے۔

کراچی کی ایک شہری شائستہ کا کہنا ہے کہ ’مچھلی دھونا اور جھینگا چھیلنا دانتوں تلے انگلیاں دبانے جتنا مشکل اور تکلیف دے ’فن‘ ہے۔۔’جبکہ جھینگے صاف کرنے کے کام پر مامور ایک ادھیڑ عمر خاتون نونی نے وی او اے کو بتایا ’یہ ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ ایک ایک جھینگا صاف کرتے کرتے دن گزر جاتا ہے اور پھر بھی ایک عورت صرف تین سے چار کلو جھینگا ہی صاف کر پاتی ہے ۔۔اس پر بھی اسے زیادہ سے زیادہ 100روپے ہی مل پاتے ہیں۔ ننگی دھوئے گی کیا۔۔اور۔۔ نچوڑے گی کیا۔‘

ایک اور خاتون آمنہ بائی نے بتایا ’یہ جو آپ تیز رفتاری سے جھینگا صاف ہوتا ہوا دیکھ رہے ہیں وہ لمبے وقت تک کام اور تجربہ کرنے کے بعد ہی آتا ہے۔ مگر تجربہ کاروں کی انگلیاں بھی اکثر زخمی ہوجاتی ہیں۔ آپ مزدور عورتوں کو ان کی انگلیوں پر لگے کٹے پٹے نشانات، زخموں اور بعض اوقات ان سے رستے ہوئے خون کو دیکھ کر لگا سکتے ہیں۔‘

آمنہ نے مزید بتایا ’جھینگا فریز ہو تو اسے جھیلتے جھیلتے انگلیوں کے پوروے سفید اور براق ہوجاتے ہیں۔ ان میں خون کی گردش تک رکتی محسوس ہوتی ہے، جلد پر سلوٹیں پڑجاتی ہیں۔۔مگر پھر بھی کسی کو بیمار شوہر تو کسی کو بیمار بچوں کے علاج معالجے، کسی کو اولاد کی شادی کرنے اور کسی کو مکان کا کرایہ، دو وقت کی روزی روٹی کمانے اور زندہ رہنے کے لئے یہ سب کچھ برداشت کرنا پڑتا ہے۔‘

انہوں نے بتایا ’فیکٹری مالکان یا ٹھیکیدار دستانے یا دیگر آلات فراہم نہیں کرتے اسی لئے کچھ خواتین کچھ مدت بعد ہی طرح طرح کی جلد ی بیماریوں میں بھی مبتلا ہوجاتی ہیں۔‘

فشریز سے متصل ہی کیماڑی ٹاوٴن واقع ہے جہاں ایک دو نہیں درجن سے زیادہ ’واڑے‘ قائم ہیں جیسے ’شمسو کا واڑہ‘۔۔ ’فتو کا واڑہ‘ اور ’جمعہ خان کا واڑہ‘۔

مقامی لوگوں کے نزدیک ’واڑہ‘ سے مراد وہ ’کارخانہ‘ ہے جہاں جھینگے صاف کئے جاتے ہیں۔

مچھلیوں کی صفائی اور ان کی تراش خراش کا کام انجام دینے والے ایک نوجوان سکندر نے وائس آف امریکہ کے نمائندے سے تبادلہ خیال میں بتایا ’واڑوں‘ میں زیادہ تر کم عمر لڑکیاں یا بڑی عمر کی خواتین کام کرتی ہیں وہ بھی نہایت مختلف اوقات کار میں کیوں کہ مختلف واڑوں میں مختلف اوقات میں ’مال‘ آتا ہے۔ کبھی رات کے بارہ بجے تو کبھی بہت ہی صبح میں۔ پھر چونکہ ’برف لگے مال‘ کو زیادہ دیر نہیں روک سکتے۔ لہذا، ’بے وقت‘ بھی کام کرنا پڑتا ہے۔ یہ کام ٹھیکے داری نظام کے تحت بھی ہوتا ہے اور ٹھیکے دار اپنی ضرورت کو پیش نظر رکھتا ہے وقت یا موسم کو نہیں۔‘

ایک ٹھیکیدار، فقیر محمد عرف ’فقیرا‘ نے بتایا: ’ہر واڑے میں ہر دن اور ہر وقت کام نہیں ہوتا ۔۔مال آنے پر مزدوری کی ضرورت پڑتی ہے۔ واڑوں میں ہماری غریب ماں بہن بیٹیاں کام کرتی ہیں ۔ ان کی مزدوری کم ہے مگر کیاکریں اب ٹھیکیدار ی میں بھی مزہ نہیں رہ گیا۔۔مندی ہی مندی چل رہی ہے اب تو۔۔اصل مزے فیکٹری مالکان کے ہیں جو ہم سے کام کراکے مال باہر بھیجتے اور لاکھوں ’ڈالر‘ کماتے ہیں۔‘

کیماڑی ٹاوٴن کی طرح ہی ریڑھی گوٹھ اور ابراہیم حیدری میں بھی واڑے قائم ہیں جن کی تعداد 10 کے قریب ہے جبکہ بنگالی پاڑہ بفرزون اور موسیٰ کالونی، لیاقت آباد میں بھی جھینگا صاف کرنے کا کام ہوتا ہے مگر محدود پیمانے پر۔

چھوٹے موٹے شیڈ کے سائیوں تلے، قطاروں میں بیٹھی اور بڑی بڑی ٹوکریوں سے جھینگے نکال نکال کر انہیں صاف کرکے پیالوں میں رکھتی اور نہایت نامساعد حالات اور بہت ہی کم مزدوری پر کام کرتی خواتین کے مسائل انگنت ہیں مگر انہیں سننے اور حل کرنے والے لوگ، ادارے اور این جی اوز بہت کم ہیں۔

حد تو یہ ہے کہ بیشتر خواتین اپنی نوکری بچانے کی غرض سے اپنے ہاتھوں کے زخم تک ٹھیکیداروں اور مالکان سے چھپا لیتی ہیں۔ کچھ کے پاس علاج کے پیسے نہیں ہوتے اس لئے وہ نمکین پانی میں بار بار ہاتھ دھو کر زخموں کا علاج تلاش کرنے میں کوشاں رہتی ہیں حالانکہ یہ’بلی کو دیکھ کر ریت میں منہ چھپانے‘ کے مترادف ہے۔

ماہی گیروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی سب سے مشہور این جی او ’پاکستان فشرفوک فورم‘ اپنے تئیں بہت کوشش کرتی ہے کہ مسائل پیدا ہی نہ ہوں، یا کم ازکم انہیں پھیلنے سے پہلے ہی ختم کردیا جائے۔ مگر، پھر بھی مسائل ہیں کہ حل ہونے میں نہیں آتے۔ اس کی ایک بڑی وجہ متعلقہ اداروں اور حکام کی غفلت بھی ہے ۔ اول تو اب تک واڑوں کو فیکٹری کا درجہ ہی نہیں دیا گیا، پھر ان میں لیبر قوانین پر عمل درآمد تو ’دیوانے کا خواب‘ ہے۔

خواتین مزدورں کیلئے انتہائی پریشان کن صورتحال کا ایک توجہ طلب پہلو یہ بھی ہے کہ ان خواتین کے شوہر اکثر اوقات غلطی سے غیر قانونی شکار کا جرم مرتکب ہوجانے پر پکڑلئے جاتے ہیں۔ انہیں آزاد کرانا ایڑھی چوٹی کا زور لگانے سے بھی زیادہ مشکل ہوتا ہے۔

ایسے میں اکثرو بیشتر اوقات بھارتی پانیوں میں بھول سے چلے جانے اور وہاں شکار کرنے کے جرم میں پکڑے جائیں تو رہائی میں عمریں نکل جاتی ہیں، بچے باپ کے سائے کے بغیر جوان ہوجاتے ہیں، جبکہ کچھ بدنصیب تو مر کر ہی اپنوں کے پاس آتے ہیں۔۔وہ بھی اگر دونوں طرف کے حکام انسانی ہمدردی کا مظاہرہ کریں تو ۔۔ورنہ سالوں تک یہ خواتین اپنے ’گھروالوں‘ کی خبر تک سے محروم رہتی ہیں۔

XS
SM
MD
LG