رسائی کے لنکس

پاکستان ذمہ دار جوہری ریاست ہے: قاضی خلیل اللہ

  • عشرت سلیم

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ (فائل فوٹو)

دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ (فائل فوٹو)

رواں ماہ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکہ نے جوہری مراعات دینے کے عوض پاکستان سے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے ترجمان قاضی خلیل اللہ نے کہا ہے کہ پاکستان ایک ذمہ دار جوہری ریاست ہے اور اسے یہ حق حاصل ہے کہ اپنے دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرے۔

جمعرات کو پاکستان کے سیکرٹری خارجہ اعزاز چوہدری نے کسی ملک کا نام لیے بغیر ایک سیمینار میں کہا تھا کہ عالمی طاقتوں کو پاکستان سے اپنے بنیادی سکیورٹی مفادات پر سمجھوتا کرنے کے غیر حقیقت پسندانہ مطالبات کرنے کی بجائے یہ سوچنا چاہئیے کہ اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔

جمعہ کو دفتر خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ میں اس بیان پر تبصرہ کرتے ہوئے قاضی خلیل اللہ نے کہا کہ پاکستان نے کبھی اس معاملے پر کوئی دباؤ قبول نہیں کیا۔

’’پاکستان جوہری ہتھیار رکھنے والی ایک ذمہ دار ریاست ہے اور ہمیں پورا حق حاصل ہے کہ ہم اپنے دفاع کے لیے جو اقدام مناسب سمجھتے ہیں وہ کریں۔‘‘

رواں ماہ وزیراعظم نواز شریف کے دورہ واشنگٹن کے موقع پر میڈیا میں ایسی خبریں سامنے آئی تھیں کہ امریکہ نے جوہری مراعات دینے کے عوض پاکستان سے اپنا جوہری پروگرام محدود کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

تاہم پاکستانی حکام نے اس بات کی سختی سے تردید کی ہے کہ وہ ایسے کسی معاہدے پر غور کر رہے ہیں۔ رواں ماہ وزیر اعظم کے مشیر برائے خارجہ امور سرتاج عزیز نے ہمسایہ ملک بھارت کا ذکر کرتے ہوئے کہا تھا کہ پاکستان کا جوہری پروگرام دفاعی نوعیت کا ہے۔

حالیہ مہینوں میں پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے اور متنازع علاقے کشمیر میں عارضی حد بندی پر وقتاً فوقتاً فائرنگ اور گولہ باری کا تبادلہ جاری ہے جس سے دونوں جانب درجنوں افراد ہلاک و زخمی ہو چکے ہیں۔

عالمی رہنماؤں کی جانب سے مذاکرات کے ذریعے اپنے مسائل حال کرنے پر زور کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان مذاکرات کا عمل تعطل کا شکار ہے۔

پاکستان نے بھارت کی انٹیلی ایجنسی ’را‘ پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ اس کے قبائلی علاقوں، بلوچستان اور کراچی میں بدامنی پھیلانے میں کردار ادا کر رہی ہے اور حکومت نے اس بارے میں شواہد پر مشتمل تین دستاویزات بھی اقوام متحدہ اور امریکہ کے حوالے کی ہیں۔

تاہم بھارتی حکام پاکستان کے اس موقف کی نفی کرتے رہے ہیں۔

پاکستانی حکام کا موقف رہا ہے کہ بھارت کے مبینہ جارحانہ نظریات اور اشتعال انگیز بیانات کے تناظر میں ضروری ہے کہ پاکستان اپنے دفاع کے لیے ہر ممکن اقدام کرے۔

پاکستان کے خارجہ سیکرٹری اعزاز چوہدری ایک بیان میں کہہ چکے ہیں کہ پاکستان نے بھارت کی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے محدود پیمانے پر تباہی پھیلانے والے جوہری ہتھیار تیار کیے ہیں۔

ان حالات میں مستقبل قریب میں پاکستان کی جوہری پالیسی میں بظاہر تبدیلی کا امکان بہت کم ہے۔

XS
SM
MD
LG