رسائی کے لنکس

فٹبال عالمی کپ کی میزبانی تفویض کرنے کے لیے رشوت لی: بلیزر


فیفا کے سابق عہدیدار چارلس بلیزر

فیفا کے سابق عہدیدار چارلس بلیزر

بلیزر نے جج کو بتایا تھا کہ انھوں نے اور فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر ارکان نے 1998ء میں عالمی کپ کی فرانس کو میزبانی دینے سے متعلق فیصلے کے لیے رشوت لی۔

فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کے ایک سابق عہدیدار نے اعتراف کیا ہے کہ انھوں نے 1998ء اور 2010ء میں فٹبال کے عالمی کپ منعقد کروانے کے سلسلے میں رشوت لی تھی۔

امریکہ کی ایک عدالت کے منظر عام پر آنے والے ریکارڈ کے مطابق چارلس بلیزر نے نومبر 2013ء میں رشوت لینے کا اعتراف کیا تھا۔

بلیزر ایک امریکی شہری ہیں اور وہ تقریباً دو دہائیوں تک عالمی تنظیم کے عہدیدار رہے۔ انھیں دس مختلف الزامات میں قصوروار قرار دیا گیا تھا۔

مقدمے کی کارروائی کی دستاویز کا کچھ حصہ جزوی طور پر سامنے آیا ہے جس کے مطابق بلیزر نے جج کو بتایا تھا کہ انھوں نے اور فیفا کی ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر ارکان نے 1998ء میں عالمی کپ کی فرانس کو میزبانی دینے سے متعلق فیصلے کے لیے رشوت لی۔

ان کے بقول انھوں نے 2010ء میں فٹبال کے عالمی کپ کی میزبانی جنوبی افریقہ کو تفویض کیے جانے کے لیے بھی رشوت لی۔

فیفا میں بڑے پیمانے پر بدعنوانی سے متعلق خبریں منظر عام پر آنے کے بعد اس کے ارکان سے تحقیقات کا سلسلہ جاری ہے۔

بدھ کو انٹرپول (بین الاقومی پولیس) نے بدعنوانی کے الزام میں فیفا کے دو سابق عہدیداروں اور چار منتظمین کے خلاف "ریڈ نوٹس" جاری کیے تھے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ دنیا میں کہیں بھی ہوں انھیں گرفتار کیا جاسکتا ہے۔

یہ افراد ان 14 لوگوں میں شامل ہیں جن کے خلاف امریکی محکمہ انصاف نے مالی بے ضابطگیوں، دھوکہ دہی اور رقوم کی غیرقانونی ترسیل کے الزامات پر فرد جرم عائد کی ہے۔

XS
SM
MD
LG