رسائی کے لنکس

سابق اسرائیلی وزیراعظم کو آٹھ ماہ قید کی سزا


ایہود اولمرٹ

ایہود اولمرٹ

اولمرٹ کے وکیل ایال روزووسکی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اس فیصلے سے "بہت مایوس" ہوئی ہے اور وہ اس کے خلاف اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

اسرائیل کے سابق وزیراعظم ایہود اولمرٹ کو بدعنوانی کے ایک مقدمے میں آٹھ ماہ قید کی سزا سنائی گئی ہے۔

ان پر ایک امریکی حامی سے غیر قانونی طور پر رقم لینے کا الزام تھا۔ مارچ میں یروشلم کی ایک عدالت نے مقدمے کی از سر نو کارروائی کے دوران انھیں قصور وار قرار دیا تھا۔

پیر کو سنائی گئی سزا سے قبل گزشتہ سال رشوت کے ایک اور مقدمے میں انھیں چھ سال قید کی سزا بھی دی گئی تھی اور یوں سابق وزیراعظم کا سیاسی مستقبل تقریباً ختم ہوتا دکھائی دیتا ہے۔

اولمرٹ کے وکیل ایال روزووسکی کا کہنا تھا کہ ان کی ٹیم اس فیصلے سے "بہت مایوس" ہوئی ہے اور وہ اس کے خلاف اسرائیل کی اعلیٰ ترین عدالت میں اپیل دائر کریں گے۔

اولمرٹ کو 2009ء میں اپنے خلاف بدعنوانی کے الزامات کی وجہ سے مستعفی ہونا پڑا تھا۔ وہ فلسطین کے ساتھ امن معاہدے کے لیے کافی پیش پیش تھے لیکن ان کے مستعفی ہونے کے بعد سخت گیر موقف رکھنے والے بنجمن نیتن یاہو کو انتخابات میں کامیابی ملی اور یہ امن عمل کے لیے کی جانے والی کوششیں بھی بارآور ثابت نہیں ہو سکیں۔

69 سالہ ایہود اولمرٹ کو 2012ء میں متعدد الزامات بشمول ایک امریکی کاروباری شخصیت مورس ٹالنسکی سے یروشلم کے میئر اور کابینہ کے وزیر ہونے کے دوران رقوم سے بھرے لفافے لینے، سے بری کر دیا گیا تھا۔

ان پر یہ الزام تھا کہ میئر کے منصب پر فائز رہنے کے دوران انھوں نے ٹالنسکی سے چھ لاکھ ڈالرز وصول کیے جب کہ بعد میں کابینہ کے وزیر کی حیثیت میں مزید رقم بھی حاصل کی۔

لیکن عدالت میں اس بات کے شواہد پیش نہیں کیے جا سکے یہ رقم غیر قانونی طور پر ذاتی وجوہات یا کسی اور مصرف کے لیے استعمال کی گئی۔

ٹالنسکی اور ایک بنیاد پرست یہودی ہیں جو نیویارک کے لانگ آئی لینڈ سے تعلق رکھتے ہیں۔ انھوں نے اپنے بیان حلفی میں کہا تھا کہ یہ رقم مہنگے سگاروں، فرسٹ کلاس سفری سہولت، پرتعیش ہوٹلوں پر خرچ ہوئی اور انھوں نے اس کے عوض کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG