رسائی کے لنکس

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اُن کی میت کو نوشہرہ کے اُن کے آبائی علاقے زیارت کاکا صاحب لے جایا جائے گا، جہاں اُن کی تدفین متوقع ہے

جماعت اسلامی کے سابق امیر اور مذہبی جماعتوں کے اتحاد مجلس عمل کے آخری سربراہ، قاضی حسین احمد دل کے دورے کے باعث ہفتے کی رات گئے اسلام آباد میں انتقال کرگئے۔ اُن کی عمر 75 برس تھی۔

وہ ایک طویل عرصے سے عارضہ قلب میں مبتلا تھے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق، اُن کی میت کو نوشہرہ میں واقع اُن کےآبائی علاقے زیارت کاکا صاحب لے جایا جائے گا، جہاں اُن کی تدفین متوقع ہے۔

قاضی حسین احمد1938ءمیں ضلع نوشہر ہ میں پیدا ہوئے۔

قاضی صاحب نے ابتدائی تعلیم گھر پر اپنےوالد سے حاصل کی۔ پھر اسلامیہ کالج پشاور سے گریجویشن کے بعد پشاور یونیورسٹی سے جغرافیہ میں ایم ایس سی کی۔ بعد ازتعلیم جہانزیب کالج سیدو شریف میں بحیثیت لیکچرارتعیناتی ہوئی اور وہاں تین برس تک پڑھاتے رہے۔

جماعتی سرگرمیوں اور اپنے فطری رجحان کے باعث ملازمت جاری نہ رکھ سکے اور پشاور میں اپنا کاروبار شروع کردیا۔ جہاں سرحد چیمبرآف کامرس اینڈ انڈسٹری کے نائب صدر منتخب ہوئے۔

دوران تعلیم اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان میں شامل رہنے کے بعد وہ 1970ء میں جماعت اسلامی کےرکن بنے، پھرجماعت اسلامی پشاورشہر اور ضلع پشاور کے علاوہ صوبہ سرحد کی امارت کی ذمہ داری بھی ادا کیں۔ 1978ء میں جماعت اسلامی پاکستان کے سیکرٹری جنرل بنے اور1987ء میں جماعت کے امیر منتخب ہوئے۔

قاضی حسین احمد 1985ء میں چھ سال کے لیے سینیٹ آف پاکستان کے ممبر منتخب ہوئے۔

1992 ء میں وہ دوبارہ سینیٹرمنتخب ہوئے۔ تاہم، بعدازاں حکومتی پالیسیوں سے اختلاف کی بنا پر اُنھوں نے سینیٹ سے استعفٰی دے دیا۔

2002 ء کے عام انتخابات میں قاضی حسین احمد دو حلقوں سے قومی اسمبلی کےرکن منتخب ہوئے۔

جمیعت علمائے پاکستان (جے یو پی) کے سربراہ، مولانا شاہ احمد نورانی کی وفات کے بعد تمام مذہبی جماعتوں کے اتحاد، متحدہ مجلس عمل (ایم ایم اے) کے صدر منتخب ہوئے۔

تبصرے دکھائیں

XS
SM
MD
LG