رسائی کے لنکس

امتیاز احمد قومی ٹیم میں وکٹ کیپر اور بیٹسمین تھے، گھٹنا زمین میں ٹکا کر شارٹ کھیلنا ان کا ایک منفرد انداز تھا اور اسی انداز میں پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں رسالوں و اخبارات میں امتیاز احمد کی تصاویر شائع ہوا کرتی تھیں۔

ماضی کے معروف کرکٹر امتیاز احمد لاہور کے ایک نجی اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ ان کی بیٹی ڈاکٹر فریدہ طارق نے وی او اے سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا ’’ ابھی ان کے ٹیسٹ ہوررہے ہیں ، ان کے نتائج کے بعد معلوم ہوسکے گا کہ وہ کس نوعیت کے مرض کا شکار ہوئے ہیں۔ ‘‘

ڈاکٹر فریدہ طارق کا کہنا تھاــ’’ 5جنوری کو امتیاز احمد کی سالگرہ ہے ، وہ 89 برس کے ہوجائیں گے ۔ ہم سب ان کی صحت کے لئے دعاگو ہیں ۔‘‘

امتیاز احمد قومی ٹیم میں وکٹ کیپر بیٹسمین تھے، گھٹنا زمین پر ٹکا کر شارٹ کھیلنا ان کا ایک منفرد انداز تھا اور اسی انداز میں پچاس اور ساٹھ کی دہائیوں میں رسالوں و اخبارات میں امتیاز احمد کی تصاویر شائع ہوا کرتی تھیں۔

امتیاز احمد1928 میں لاہور میں پیدا ہوئے، 24برس کی عمر میں انہوں نے ٹیسٹ کرکٹ کا آغاز کیا اور 41 ٹیسٹ میچوں میں 2000سے زائد رنز اسکور کئے ۔

عام طور پر وہ مڈل آرڈر میں بیٹنگ کیا کرتے تھے لیکن بسا اوقات ٹاپ آرڈر میں بھی کھیلے۔ پاکستانی کرکٹ ٹیم کے وہ پہلے وکٹ کیپر تھے ۔

اکتوبر 1955میں انہوں نے نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے خلاف کھیلتے ہوئے 209رنز بنائے جو پاکستان میں کسی بھی وکٹ کیپر کی پہلی ڈبل سنچری تھی۔ 1966میں امتیاز احمد کو حکومت پاکستان نے پرائیڈ آف پرفارمنس سے نوازا۔

سن 1961 اور 1962 میں انگلینڈ کے خلاف میچوں میں امتیاز احمد نے کپتانی کی تھی ۔

ڈاکٹر فریدہ طارق نے بتایا کہ ان کے والد کے زمانے کے کرکٹر تو ایک ایک کرکے سب رخصت ہوگئے لیکن ان کے پرانے پرستار ضرور ان سے لاہور کے کیولری گراؤنڈ کے علاقے میں واقع ان کے گھر ان سے ملنے آتے تھے۔

امتیاز احمد کی تین بیٹیاں اور ایک بیٹا ہے۔ یہ چاروں ڈاکٹر ہیں اور چاروں ہی اپنے والد کے علاج میں مصروف ہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ بیماری سے پہلے امتیاز احمد صاحب کا کیا معمول تھا، ڈاکٹر فریدہ طارق نے بتایا کہ وہ روز مرہ کے معمول میں اپنے نواسے نواسیوں اور پوتے پوتیوں کے ساتھ وقت گزارتے ہیں اور گھر کے کام کاج میں بھی دلچسپی لیتے ہیں ۔ کرکٹ کے اپنےدور کے دوستوں میں وہ ذوالفقار احمد کو بہت یاد کرتے ہیں ۔

XS
SM
MD
LG