رسائی کے لنکس

عراق: اصلاحاتی منصوبے پر حکمران اتحاد میں اختلافات


عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی اور موجودہ وزیرِاعظم حیدر العبادی

عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی اور موجودہ وزیرِاعظم حیدر العبادی

تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عراقی سیاست دان حکومت کے اصلاحاتی منصوبے اور وزیرِاعظم کے طرزِ حکمرانی سے خوش نہیں جس کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں بھی برآمد ہوسکتا ہے۔

عراق کے سابق وزیرِاعظم نوری المالکی اور ان کے ساتھی ارکانِ پارلیمان نےموجودہ وزیرِاعظم حیدر العبادی کی حکومت اور ان کے اصلاحاتی پروگرام کی حمایت واپس لینے کا اعلان کیا ہے۔

حکمران اتحاد میں شامل نوری المالکی کے حامی 60 ارکانِ پارلیمان نے وزیرِاعظم العبادی کو ایک خط ارسال کیا ہے جس میں العبادی کی جانب سے شروع کیے جانے والے اصلاحاتی پروگرام پر تحفظات ظاہر کیے گئے ہیں۔

حکمران اتحاد کے کئی اور ارکان نے بھی حکومت کے اصلاحاتی منصوبوں پر تحفظات ظاہر کرتے ہوئے وزیرِاعظم پر زور دیا ہے کہ وہ مجوزہ پروگرام پر عمل درآمد سے قبل ارکانِ پارلیمان اور اپنے اتحادیوں سے مشاورت کو یقینی بنائیں۔

ستمبر 2014ء میں وزارتی عظمیٰ سنبھالنے والے حیدر العبادی کی حکومت نے ملک کے سیاسی نظام کی تبدیلی اور اسے شفاف بنانے اور حکومت سے بدعنوانی کے خاتمے کے لیے رواں سال ایک بڑے اصلاحاتی منصوبے کا آغاز کیا تھا جس کی پارلیمان نے خاصے بحث و مباحثے کے بعد منظوری دی تھی۔

لیکن حکمران اتحاد میں پڑنے والی دراڑوں اور سامنے آنے والے اختلافات کے بعد تجزیہ کاروں نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ عراقی سیاست دان حکومت کے اصلاحاتی منصوبے اور وزیرِاعظم کے طرزِ حکمرانی سے خوش نہیں جس کا نتیجہ حکومت کے خاتمے کی صورت میں بھی برآمد ہوسکتا ہے۔

وزیرِاعظم العبادی کے اصلاحاتی منصوبے کے تحت عراق کے سیاسی نظام سے نائب صدور اور نائب وزرائے اعظم کے تین، تین عہدے ختم ہوجائیں گے جنہیں وزیرِاعظم غیر ضروری اور نمائشی قرار دے چکے ہیں۔

بعض ارکانِ پارلیمان نے وزیرِاعظم کی جانب سے رواں ماہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں کٹوتی کے فیصلے پر بھی احتجاج کیا ہے اور ان سے اس نوعیت کے اقدامات پر حکومتی اتحاد کو اعتماد میں لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

العبادی حکومت کے حامی مغربی ملکوں خصوصاً امریکہ کو خدشہ ہے کہ گزشتہ ایک دہائی سے فرقہ وارانہ کشیدگی اور دہشت گردی کا شکارعراق میں سیاسی عدم استحکام نہ صرف عراق بلکہ پورے مشرقِ وسطیٰ کو متاثر کرے گا۔

عراق میں پیدا ہونے والا سیاسی بحران امریکہ کی قیادت میں قائم بین الاقوامی اتحادی کی جانب سے داعش کے خلاف کارروائیوں اور کوششوں پر بھی اثر انداز ہوسکتا ہے۔

XS
SM
MD
LG