رسائی کے لنکس

معروف سیاسی مبصر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کو آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی تیاری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔

مرکز میں حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے اتوار کو اعلان کیا کہ سابق پاکستانی صدر اور ان کی جماعت کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری 23 دسمبر کو وطن واپس آرہے ہیں جس کے بعد ان کے بقول پیپلز پارٹی حکمران جماعت کے خلاف اپنے مطالبات منوانے کے لیے حکمت عملی کو موثر انداز میں آگے بڑھائے گی۔

آصف علی زرداری پانچ سال تک صدر رہنے کے بعد 2013ء میں سبکدوش ہوئے تھے۔ گزشتہ سال انھوں نے ایک جلسے سے خطاب کے دوران بظاہر ملکی سیاست میں فوج کی مبینہ مداخلت پر اسے تنقید کا نشانہ بنایا تھا اور اس کے چند روز بعد ہی وہ اچانک بیرون ملک چلے گئے۔

پیپلز پارٹی کا موقف رہا کہ سابق صدر کے بیان کی سیاق و سباق سے ہٹ کر تشریح کی گئی اور بیرون ملک جانے کا اس بیان سے کوئی تعلق نہیں۔

اتوار کو کراچی میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ سابق صدر کے ملک میں واپس آنے سے ان کے خیال میں وہ اپنے چار مطالبات حکومت سے منوانے کے لیے دباؤ میں اضافہ کر سکیں گے۔

پیپلز پارٹی کے ان چار مطالبات میں قومی سلامتی کی پارلیمانی کمیٹی کا قیام، پاناما لیکس کی تحقیقات کے لیے اپنے تیار کردہ بل کی منظوری، چین پاکستان اقتصادی راہداری سے متعلق کل جماعتی کانفرنس میں کیے گئے فیصلوں کا اطلاق اور ملک کا کل وقتی بااختیار وزیرخارجہ تعینات کرنا شامل ہیں۔

معروف سیاسی مبصر احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ سابق صدر آصف علی زرداری کی وطن واپسی کو آئندہ انتخابات کے لیے سیاسی جماعتوں کی تیاری کے تناظر میں دیکھا جانا چاہیئے۔

تاہم وائس آف امریکہ سے گفتگو میں ان کا کہنا تھا کہ اگر پیپلزپارٹی اور حزب مخالف کی دوسری بڑی جماعت پاکستان تحریک انصاف حکومت کے خلاف مل کر کوئی حکمت عملی بناتی ہیں تو وزیراعظم نواز شریف کے لیے مشکلات بڑھ سکتی ہیں۔

"پاناما لیکس کا معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ تحریک انصاف اور کسی حد تک پیپلز پارٹی نے بھی عوام میں ایک شعور اجاگر کیا ہے لوگ شک تو کر رہے ہیں۔۔۔حکومت کی کوشش ہو گی کہ وہ پیپلزپارٹی کو تحریک انصاف کے ساتھ نہ ملنے دے۔"

حکومت پیپلزپارٹی کے مطالبات کے ردعمل میں کہتی آرہی ہے کہ وہ سیاست میں اس کے بقول مثبت کردار ادا کرتے ہوئے انسداد بدعنوانی کی قانون سازی سمیت ملکی ترقی جیسے اقدام میں حکومت کا ساتھ دینا چاہیے۔

XS
SM
MD
LG