رسائی کے لنکس

روسی صدر کے سابق مشیر کی امریکہ میں پراسرار موت


میخائل لیسن کی ایک فائل فوٹو

میخائل لیسن کی ایک فائل فوٹو

میخائل لِیسن 1999ء سے 2004ء تک روس کے وزیرِ اطلاعات اور 2004ء سے 2009ء تک صدر پیوٹن کے مشیر برائے میڈیا رہ چکے ہیں۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن کے ایک سابق مشیر امریکہ کے دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی کے ایک ہوٹل میں مردہ پائے گئے ہیں۔

واشنگٹن میں واقع روسی سفارت خانے نے تصدیق کی ہے کہ جمعے کو واشنگٹن کے علاقے ڈیوپونٹ سرکل کے ایک ہوٹل کے کمرے سے برآمد ہونے والی لاش 57 سالہ میخائل لیسن کی ہے۔

لِیسن 1999ء سے 2004ء تک روس کے وزیرِ اطلاعات اور 2004ء سے 2009ء تک صدر پیوٹن کے مشیر برائے میڈیا رہ چکے ہیں۔

روس کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ میخائل لیسن کی موت بظاہر دل کا دورہ پڑنے سے ہوئی ہے۔

لیکن واشنگٹن ڈی سی کے پولیس حکام کا کہنا ہے کہ وہ ہوٹل سے ملنے والے شخص کی موت کی تحقیقات کر رہے ہیں۔ پولیس نے مردہ شخص کی شناخت کی تصدیق کرنے سے بھی معذرت کی ہے۔

'اے بی سی نیوز' کے مطابق مسی سپی سے منتخب ری پبلکن سینیٹر رابن وکِر نے گزشتہ سال امریکی حکام سے درخواست کی تھی کہ وہ میخائِل لیسن کے خلاف منی لانڈرنگ اور بدعنوانی کے الزامات میں تحقیقات کریں۔

امریکی اٹارنی جنرل کو بھیجے جانے والے ایک خط میں سینیٹر وکِر نے کہا تھا کہ اپنے دورِ وزارت میں میخائل لِیسن نے یورپ اور امریکہ میں کئی ملین ڈالرز مالیت کے اثاثے بنائے تھے جس پر ان کے خلاف تحقیقات ہونی چاہئیں۔

امریکی نشریاتی ادارے 'اے بی سی نیوز' کے مطابق میخائل لیسن 2013ء سے 2014ء کے دوران روس کے سب سے بڑے نشریاتی ادارے 'گیز پروم میڈیا' میں ایک سینئر عہدے پر بھی کام کرتے رہے ہیں۔

XS
SM
MD
LG