رسائی کے لنکس

سابق امریکی جنرل کا خفیہ معلومات افشا کرنے کا اعتراف


کارٹرائٹ اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں آ رہے ہیں

کارٹرائٹ اپنے وکیل کے ساتھ عدالت میں آ رہے ہیں

تفتیش کار ان سے یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو متاثر کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تیار کیے گئے کمپیوٹر وائرس سے متعلق معلومات انھوں نے صحافیوں کو افشا کی تھیں؟

امریکہ کے ایک زمانے میں دوسرے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار رہنے والے سابق فوجی جنرل نے ان الزامات کا اعتراف کر لیا ہے کہ انھوں نے خفیہ معلومات افشا کرنے سے متعلق تفتیش کاروں سے جھوٹ بولا تھا۔

جنرل جیمز کارٹرائٹ سابق جنرل اور وائس چیئرمین آف جوائنٹ چیفس آف اسٹاف ہیں۔

تفتیش کار ان سے یہ پوچھنا چاہتے تھے کہ ایران کے جوہری پروگرام کو متاثر کرنے کے لیے امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے تیار کیے گئے کمپیوٹر وائرس سے متعلق معلومات انھوں نے صحافیوں کو افشا کی تھیں؟

“Stuxnet” نامی وائرس کی وجہ سے 2010ء میں ایران کے یورینیم افژودہ کرنے والے سینٹری فیوجز قابو سے باہر رفتار سے چلنے لگے تھے جس سے ممکنہ طور پر تہران کے جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں کو دھچکا لگا تھا۔

اس بارے میں معلومات نیویارک ٹائمز کے ایک نامہ نگار ڈیوڈ سینگر کی کتاب “Confront and Conceal” میں سامنے آئی تھیں۔

کارٹرائٹ کو پانچ سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے لیکن اطلاعات کے مطابق ان کے وکیل اور استغاثہ نے چھ ماہ تک کی سزا پر اتفاق کیا ہے۔

شائع شدہ اطلاعات کے مطابق یہ کمپیوٹر وائرس "اولمپک گیمز" نامی ایک وسیع سائبر آپریشن کا حصہ تھا جو کہ سابق امریکی صدر جارج ڈبلیو بش کے دوران میں تیار کیا گیا۔ گزشتہ سال نیویارک ٹائمز نے خبر دی تھی کہ یہ آپریشن جنرل کارٹرائٹ کی زیرنگرانی کیا گیا۔

نومبر 2010ء میں ایران نے کہا تھا کہ ایک کمپیوٹر وائرس کی وجہ سے افژودگی کی کوششیں عارضی طور پر مفلوج ہو گئی ہیں۔

امریکہ میں اس بارے میں تحقیقات ان متعدد تفتیشوں کا حصہ تھی جو اوباما انتظامیہ نے سکیورٹی سے متعلق معلومات کے افشا ہونے پر شروع کی تھیں۔

XS
SM
MD
LG