رسائی کے لنکس

سابق امریکی سینیٹر بروک 95 برس کی عمر میں انتقال کر گئے


ایڈورڈ بروک

ایڈورڈ بروک

صدر براک اوباما نے ایک بیان میں بروک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی خدمت کی ایک غیر معمولی زندگی گزاری۔

امریکی ریاست میساچوسٹس کے ایک سابق سینیٹر ایڈورڈ بروک انتقال کر گئے۔ وہ پہلے سیاہ فام امریکی تھے جو لوگوں کے ووٹوں سے براہ راست امریکی ایوان بالا کے رکن بنے۔ ان کی عمر 95 سال تھی۔

بروک کی موت کی تصدیق ان کے خاندان کے ایک ترجمان نے کی جس نے کہا کہ ان کا انتقال جنوبی ریاست فلوریڈا میں ان کے گھر پر ہوا اور اس وقت ان کے خاندان کے افراد ان کے پاس موجود تھے۔

ایک لبرل ریپبلکن کے طور پر پہچانے جانے والے بروک پہلی بار 1966ء اور دوسری بار 1972ء میں سینیٹ کے رکن منتخب ہوئے۔

ان کا شمار ان دو سیاہ فام امریکیوں میں ہوتا ہے جنہوں نے بیسویں صدی میں بطور سینیٹر کے کام کیا اور وہ امریکی سول وار کےاختتام کے بعد پہلے سینیٹر تھے۔ اس وقت ریاستی قانون ساز سینیٹروں کو منتخب کرتے تھے۔

صدر براک اوباما نے ایک بیان میں بروک کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے عوامی خدمت کی ایک غیر معمولی زندگی گزاری۔ انہوں نے قانون سازی کے حوالے سے بروک کے عملی نقطہ نظر کو سراہتے ہوئے کہا کہ وہ "شہری حقوق اور اقتصادی عدل کی لڑائی میں " سب سے آگے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری جو میساچوسٹس کے سابق سینیٹر بھی ہیں، نے بھی ایک بیان میں ایڈورڈ بروک کو ایک "مضبوط عوامی خدمت گار" قرار دیا۔

"چاہے وہ جنگ عظیم دوئم میں انفنٹری ڈویژن میں تھے جہاں انہیں فسطائیت کے خلاف لڑائی میں کانسی کا تَمغَہ دیا گیا، یا بطور ریاست کے اٹارنی جنرل کے بدعنوانی کے خلاف ان کا کردار، اور آخر میں امریکی سینیٹ کے رکن کے طور پر جہاں انہوں نے شہری حقوق کے لیے قانون سازی کی حمایت اور سستی رہائش کے لیے ان کی کوششیں، ایڈورڈ بروک نے اپنی زندگی کا ہر دن اپنے ملک کے نام کیا"۔

بروک ان پہلے امریکی سینیٹروں میں شامل تھے جنہوں نے صدر رچرڈ نکسن سے اس وقت استعفے کا مطالبہ کیا تھا جب واٹر گیٹ نامی اسکینڈل نے پوری قوم کو لپیٹ میں لے رکھا تھا۔ انہوں نے نکسن کے طرف سے کی گئی دو نامزدگیوں کی شہری حقوق کے مسئلے کی وجہ سے مخالفت بھی کی۔

XS
SM
MD
LG