رسائی کے لنکس

ایک بار پھر، دو متاثرین نے اپنی روداد سنائی، جس میں اُنھوں نے شوٹنگ کے نتیجے میں اُن کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح کیا

گذشتہ ہفتے عدالت کی طرف سے میجر ندال حسن کو متفقہ طور پر مجرم قرار دیے جانے کے بعد، مقدمے کے سزا کے تعین کے مرحلے پر حکومت کی طرف سے 12عینی شاہدین پیش ہوئے۔

ایک بار پھر، دو متاثرین نے اپنی روداد سنائی، جس میں اُنھوں نے شوٹنگ کے نتیجے میں اُن کی زندگی پر پڑنے والے اثرات کو واضح کیا۔

اسٹاف سارجنٹ، پیٹرک زئیگلر جونیئر’آرمر افسر‘ کی درخواست لے کر، اپنے تعناتی کے مقام سے ٹیکساس کے فورٹ ہُڈ بیس پہنچے تھے۔ گولی لگنے کے باعث، وہ معذور ہوئے، اور اُن کے مغز کے 20 فی صد حصے کو نقصان پہنچا۔

شوٹنگ کے واقعے کے وقت، پرائیوٹ فرسٹ کلاس مِک ایگنھل بھی فورٹ ہُڈ میں تعینات تھے، جنھیں دو گولیاں لگیں۔ زخموں میں کچھ بہتری آنے پر اُنھیں اسپتال سے ڈسچارج کر دیا گیا ہے، لیکن اُنھیں روزگار ملنے میں دقت درپیش ہے۔

ہلاک شدگان کے 10لواحقین، متاثرین کے اہل خانہ اور ساتھیوں نے بھی اپنی روداد قلم بند کرائی۔ اِن میں بیوائیں، والدین اور ساتھی فوجی شامل ہیں، جنھوں نے اپنے پیاروں کے قتل ہونے کے نتیجے میں پہنچنے والے نقصان کے بارے میں شہادتیں درج کرائیں۔

بعد ازاں، پیر کی ہی شام فورٹ ہُڈ شوٹنگ کے لواحقین، متاثرین کے اہل خانہ اور پیاروں کی زندگیوں پر پڑنے والے اثرات کے بارے میں مزید شہادتیں قلم بند ہوئیں۔

شوٹنگ کے مقدمے میں جج متفقہ طور پر ندال حسن کو قتل عمد کے 13اور قتل کے ارادے کے 32الزامات میں قصور وار ٹھہرا چکے ہیں۔
XS
SM
MD
LG